
امریکا کا ایران کے خلاف فوجی آپریشن “ایپک فیوری” دوسرے ہفتے میں داخل، ٹرمپ اختتام پر غور کرنے لگے
امریکی مشیروں کا جنگ کے خاتمے کی حکمت عملی تیار کرنے پر زور، تیل کی بڑھتی قیمتیں اور عوامی مخالفت واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث
ایران کے خلاف امریکی آپریشن “ایپک فیوری” دوسرے ہفتے میں داخل
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی “ایپک فیوری” دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس آپریشن کو جلد ختم کرنے یا محدود کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر کے قریبی مشیروں نے نجی سطح پر اس بات پر زور دیا ہے کہ اب امریکا کو ایک واضح حکمتِ عملی کے ساتھ اس جنگ سے نکلنے کا منصوبہ تیار کرنا چاہیے۔ مشیروں کا مؤقف ہے کہ امریکی افواج اپنے اہم فوجی اہداف بڑی حد تک حاصل کر چکی ہیں، اس لیے طویل فوجی کارروائی جاری رکھنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی خدشات
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے کے بعد امریکی معیشت پر ممکنہ دباؤ کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث واشنگٹن کے پالیسی سازوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو امریکا میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے سیاسی اور معاشی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
امریکی عوام اور سیاسی حلقوں کی تشویش
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد اس فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کر رہی۔ سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 53 فیصد ووٹرز ایران کے خلاف امریکی حملوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اسی طرح ریپبلکن پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے بھی وائٹ ہاؤس کو آگاہ کیا ہے کہ جاری جنگ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کا آپریشن محدود کرنے کا اشارہ
فلوریڈا میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ فوجی کارروائی کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ایک مختصر فوجی مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن توقع سے کہیں پہلے اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچایا گیا ہے اور فوجی مقاصد بڑی حد تک حاصل ہو چکے ہیں۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اب فوجی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بڑھتی ہوئی ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے دباؤ کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے۔







