
غزہ جنگ: اسرائیلی فوج میں ہزاروں غیر ملکی شہری شامل، ممکنہ جنگی جرائم پر قانونی سوالات
اسرائیلی دفاعی افواج میں 50 ہزار سے زائد دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کا انکشاف، الجزیرہ کی رپورٹ کے بعد یورپ میں قانونی کارروائی کی بحث تیز
اسرائیل اور غزہ کی جنگ سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہزاروں غیر ملکی شہری اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کے بعد ممکنہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی قانونی کارروائی سے متعلق بحث میں شدت آ گئی ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی این جی او ہتزلخا نے فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت حاصل کردہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان معلومات کے مطابق اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد ایسے اہلکار شامل ہیں جو اسرائیلی شہریت کے ساتھ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں بڑی تعداد امریکی اور یورپی پاسپورٹ ہولڈرز کی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 12 ہزار امریکی، 6 ہزار سے زائد فرانسیسی، 5 ہزار روسی، تقریباً 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 سے زائد جرمن شہری اسرائیلی فوج میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، برازیل، جنوبی افریقہ اور مختلف لاطینی امریکی ممالک کے شہری بھی اس فہرست کا حصہ بتائے گئے ہیں۔
یہ تفصیلات مارچ 2025 تک کی صورتحال پر مبنی ہیں، جب غزہ میں جاری جنگ کو تقریباً 17 ماہ مکمل ہو چکے تھے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس اور بیلجیئم سمیت مختلف یورپی ممالک میں انسانی حقوق کے گروپ اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بعض ممالک میں ابتدائی تحقیقات کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے، تاہم اب تک کسی فرد کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔







