
بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت
بنگلا دیش الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد 212 نشستوں کے ساتھ کامیاب، ریفرنڈم میں 60.26 فیصد ووٹرز کی حمایت
بنگلا دیش کی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
297 نشستوں کے سرکاری نتائج جاری
بنگلا دیش الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 297 نشستوں کے حتمی اور باضابطہ نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد کے مطابق بی این پی کے زیر قیادت اتحاد نے مجموعی طور پر 212 نشستیں اپنے نام کیں۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی سربراہی میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد نے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ اسلامی اندولن بنگلادیش ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی اور آزاد امیدواروں نے 7 حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔
ریفرنڈم کے نتائج بھی سامنے آگئے
الیکشن کمیشن کے مطابق 12 فروری کو منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں 60.26 فیصد ووٹرز نے حق میں ووٹ دیا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ 2 نشستوں کے نتائج بعد ازاں جاری کیے جائیں گے۔
ووٹنگ اور پوسٹل بیلٹس کی تفصیل
واضح رہے کہ بنگلادیش میں قومی انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 299 نشستوں پر پولنگ کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ریٹرننگ افسران کو 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوئے، جو خصوصی ایپلی کیشن کے ذریعے جمع کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک مقیم 4 لاکھ 95 ہزار 551 ووٹرز اور ملک کے اندر موجود 6 لاکھ 48 ہزار 294 شہریوں کے پوسٹل ووٹ وصول کیے گئے۔ پوسٹل ووٹنگ کے لیے اندرون و بیرونِ ملک رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 15 لاکھ سے زائد تھی۔
یہ نتائج بنگلادیش کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی توقع ہے، جبکہ نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت کا عمل بھی جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔







