الیکشنٹائٹلعالمی امور

بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بی این پی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل

طارق رحمان کی قیادت میں 209 نشستوں پر کامیابی، آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم میں 73 فیصد ووٹرز کی حمایت

بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔ غیر سرکاری اور غیر مصدقہ نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔

طارق رحمان کی قیادت میں کامیابی

اطلاعات کے مطابق پارٹی کی قیادت Tarique Rahman کر رہے تھے، جو سابق وزیر اعظم Khaleda Zia کے صاحبزادے ہیں۔ غیر حتمی نتائج کے تحت بی این پی نے تنہا 191 نشستیں جیتیں، جبکہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ تعداد 209 تک پہنچ گئی۔

مزید برآں، رپورٹس کے مطابق طارق رحمان نے ڈھاکا اور بوگرہ کی دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی۔

دیگر جماعتوں کی کارکردگی

بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق Bangladesh Jamaat-e-Islami 34 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔
اسی طرح National Citizen Party، جس نے 30 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے تھے، 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم

غیر سرکاری نتائج کے مطابق آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں تقریباً 73 فیصد ووٹرز نے حمایت میں ووٹ دیا۔ بی این پی قیادت نے اپنے کارکنان کو فتح کا جشن منانے سے گریز کرنے اور ملکی استحکام و ترقی کے لیے دعاؤں کی تلقین کی ہے۔

ٹرن آؤٹ اور پوسٹل ووٹنگ کی تفصیلات

خبر رساں اداروں کے مطابق عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا۔ ملک بھر میں 299 نشستوں پر پولنگ کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم کے لیے بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

ریٹرننگ افسران کو مجموعی طور پر 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 4 لاکھ 95 ہزار 551 ووٹ بیرون ملک مقیم شہریوں کے تھے، جبکہ 6 لاکھ 48 ہزار 294 ووٹ ملک کے اندر سے ڈالے گئے۔ پوسٹل ووٹنگ کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 15 لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔

طارق رحمان کا بیان

میڈیا رپورٹس کے مطابق طارق رحمان کا کہنا ہے کہ جن سیاسی ساتھیوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائی گئی، ان ہی کے ساتھ مل کر ملک کا نظام چلایا جائے گا تاکہ قومی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔

یہ نتائج غیر حتمی ہیں، حتمی اور سرکاری اعلان کے بعد صورتحال میں معمولی رد و بدل ممکن ہے۔

جواب دیں

Back to top button