تحقیقاتی رپورٹسٹائٹل

امریکہ کو خلیج فارس میں کس خطرے کا سامنا ہے؟ ایران کی ’جھُنڈ کی صورت حملہ‘ حکمتِ عملی پر تشویش

بارودی ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے اجتماعی حملے امریکی بحریہ کے جدید دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنج بن گئے

امریکہ اور ایران میں کشیدگی: خلیج میں ’جھُنڈ کی صورت حملہ‘ امریکی بحریہ کے لیے بڑا خطرہ کیوں؟

تجزیہ رپورٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیج فارس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق امریکی بحریہ کو جس خطرے کا سب سے زیادہ سامنا ہے وہ روایتی جنگ نہیں بلکہ ایران کی جانب سے غیر متوازن اور اچانک اجتماعی حملے کی حکمتِ عملی ہے۔

اجتماعی حملے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟

دفاعی ذرائع کے مطابق اس حکمتِ عملی میں ایران ایک یا ایک سے زائد اہداف پر بیک وقت درجنوں بارودی ڈرونز اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے ذریعے حملہ کر سکتا ہے۔ اس نوعیت کے حملے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جدید اور مہنگے دفاعی نظام بھی تمام خطرات کو بروقت ناکام نہ بنا سکیں۔

ایک امریکی بحری جہاز کے کپتان کے مطابق، اس طرح کے حملے امریکی بحری دفاع کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں کیونکہ تعداد کی زیادتی دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کردار

خلیج فارس میں ایران کی بحری طاقت کی کمان اب زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہاتھ میں ہے، جو برسوں پہلے روایتی ایرانی بحریہ کی جگہ لے چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فورس خاص طور پر غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی میں مہارت رکھتی ہے۔

ایرانی بحری اہلکاروں کی تربیت اس انداز میں کی جاتی ہے کہ وہ امریکی ففتھ فلیٹ کی تکنیکی برتری کا براہِ راست مقابلہ کرنے کے بجائے اسے چکمہ دے سکیں یا کمزور نکات پر ضرب لگائیں۔

امریکہ کے لیے ممکنہ نتائج

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی امریکی جنگی جہاز کو نقصان پہنچتا ہے یا وہ تباہ ہوتا ہے، اور اس کے عملے کے افراد گرفتار ہو جاتے ہیں، تو یہ امریکہ کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی شدید سبکی کا باعث بن سکتا ہے۔

اگرچہ اس امکان کو کم سمجھا جاتا ہے، لیکن ماضی کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جدید بحری جہاز بھی غیر متوقع حملوں سے محفوظ نہیں۔

ماضی کے خطرناک واقعات

سنہ 2000 میں یمن کی عدن بندرگاہ پر امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے خودکش حملے میں 17 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اربوں ڈالر مالیت کا جہاز شدید متاثر ہوا۔

اسی طرح 1987 میں ایک عراقی پائلٹ کی غلطی سے داغے گئے دو میزائل امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سٹارک پر آ لگے تھے، جس کے نتیجے میں 37 امریکی اہلکار جان سے گئے تھے۔

خطے میں بڑھتے خدشات

ماہرین کے مطابق خلیج میں موجودہ صورتحال میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود حملے کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نہ صرف ایرانی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنے دفاعی نظام کو مسلسل اپ گریڈ بھی کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button