
ٹرمپ کی جارحانہ عالمی پالیسیوں کے خلاف دنیا میں مزاحمت بڑھنے لگی
امریکہ روایتی عالمی اداروں کے بجائے ایسے ڈھانچے قائم کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر اس کے اثر و رسوخ میں ہوں۔
عالمی منظرنامے پر یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ مختلف ممالک ایک خود ساختہ عالمی قیادت کے خلاف صف بندی کر رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانیے اور یکطرفہ فیصلوں نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ریاستیں ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ مزاحمتی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
جنوری کے آغاز میں امریکی قانون سازوں سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو ’’بادشاہ‘‘ کہنے کے بعد یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ وہ عالمی سیاست میں آمرانہ طرزِ قیادت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس بیان کے چند ہی دن بعد یورپی سیاسی حلقوں میں امریکہ سے فاصلہ بڑھانے پر سنجیدہ مشاورت شروع ہو گئی۔
ڈیووس فورم میں ٹرمپ کا سخت لہجہ، عالمی تشویش میں اضافہ
ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو مبصرین نے غیر معمولی حد تک سخت اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ ان بیانات میں کئی ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ پیغام سامنے آیا کہ ٹرمپ عالمی تعاون کے بجائے طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کے حامی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کثیرالجہتی عالمی نظام کے بجائے ایک ایسے یک قطبی نظام کی وکالت کر رہے ہیں جس میں فیصلہ سازی کا مرکز صرف امریکہ ہو۔ انہوں نے عالمی اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں کو غیر مؤثر قرار دے کر یہ عندیہ دیا کہ مستقبل کی دنیا قوانین کے بجائے دباؤ اور طاقت کے اصول پر چلائی جائے۔
کینیڈا، چین اور بڑھتی سفارتی کشیدگی
ڈیووس ہی کے دوران ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور چین کے ساتھ کینیڈا کے حالیہ تجارتی معاہدے پر سخت ردعمل دیا۔ اس بیان کے جواب میں مارک کارنی نے کہا کہ دنیا میں قانون کی حکمرانی کمزور ہو رہی ہے اور طاقتور ممالک اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کر رہے ہیں، جو عالمی توازن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
گرین لینڈ، یورپ اور اعتماد کا بحران
یورپی یونین کے رہنماؤں میں اس وقت شدید تشویش پائی جاتی ہے، خاص طور پر گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے بیانات اور تجارتی دباؤ کی دھمکیوں کے بعد۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے امریکی طرزِ عمل کو غلبے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو جبر نہیں بلکہ اعتماد اور شراکت داری کی ضرورت ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے بھی خبردار کیا کہ گرین لینڈ کے خلاف کسی اقدام کی صورت میں نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ سے ہٹ کر نئی عالمی حکمت عملی
غزہ امن عمل کے تناظر میں بھی ٹرمپ کی یکطرفہ سوچ نمایاں دکھائی دی۔ سلامتی کونسل میں ناکامی کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرتے ہوئے محدود ممالک پر مشتمل ایک متبادل فورم تشکیل دیا، جس میں دو ریاستی حل کی مخالفت، طاقت کے ذریعے امن اور غزہ کی سیکیورٹی کو مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں دینے جیسے نکات شامل تھے۔
یہ اقدامات اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ امریکہ روایتی عالمی اداروں کے بجائے ایسے ڈھانچے قائم کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر اس کے اثر و رسوخ میں ہوں۔ اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت اور یونیسکو سے علیحدگی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور نئے اتحادوں کی تیاری
وینزویلا، ایران، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجوہات ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں نئے عالمی بلاکس کی تشکیل کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔
یورپی حلقوں میں اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ موجودہ بحران کو ایک موقع میں بدلا جائے، تاکہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے میں مشترکہ اور خودمختار یورپی موقف اپنایا جا سکے۔ اگرچہ اندرونی اختلافات ایک چیلنج ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق اس سوچ کے عملی نفاذ سے عالمی نظام میں توازن، مذاکرات اور قوانین کو دوبارہ مرکزی حیثیت مل سکتی ہے۔







