
یاسین ملک کے کیس کی سماعت: مشعال ملک نے ممکنہ فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کل ہونے والی سماعت نہایت حساس اور خطرناک نوعیت کی ہے، جس میں کوئی بھی بڑا فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس یاسین ملک کی زندگی کے لیے انتہائی اہم مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک ایک نظریاتی جدوجہد سے وابستہ شخصیت ہیں، جنہوں نے مسلح راستہ چھوڑ کر امن اور سیاسی جدوجہد کو اختیار کیا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود یاسین ملک کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہاڑ جیل میں یاسین ملک کو شدید مشکلات اور تشدد کا سامنا ہے، جبکہ انہیں قانونی دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ مشعال ملک کے مطابق یاسین ملک کو وکیل کرنے اور اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع نہیں دیا جا رہا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
مشعال ملک نے مزید کہا کہ یاسین ملک کو عدالت میں باقاعدہ طور پر پیش نہیں کیا جا رہا اور ان کے خلاف یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یاسین ملک کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کے سنگین سیاسی اور انسانی حقوق سے متعلق نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ یاسین ملک کے لیے آواز بلند کریں اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے اور انہیں انصاف فراہم ہو۔
مشعال ملک کے مطابق یاسین ملک کا کیس صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس پر عالمی برادری کی توجہ ناگزیر ہو چکی ہے۔



