
عالمی شہرت یافتہ برطانوی صحافی مارک ٹلی انتقال کر گئے
جنوبی ایشیا کی تاریخ کے عینی شاہد
عالمی شہرت یافتہ برطانوی صحافی مارک ٹلی انتقال کر گئے
جنوبی ایشیا کی تاریخ کو اپنی رپورٹنگ اور تحریروں کے ذریعے دنیا کے سامنے لانے والے معروف برطانوی صحافی مارک ٹلی (Mark Tully) انتقال کر گئے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ نئی دہلی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں ان کا انتقال ہوا۔
مارک ٹلی کئی دہائیوں تک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں صحافتی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی وفات کو براڈکاسٹ جرنلزم کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ خطے کی سیاست اور معاشرت پر گہری نظر رکھنے والی ایک مضبوط آواز تھے۔
انہوں نے 1970 سے 1990 کی دہائی کے اوائل تک جنوبی ایشیا میں بی بی سی کے نمائندے کے طور پر کام کیا اور اس عرصے میں کئی تاریخی واقعات کی عینی شاہد رپورٹنگ کی۔ وہ جنوبی ایشیا میں بی بی سی کے سب سے نمایاں اور بااعتماد صحافی سمجھے جاتے تھے۔
کشمیری صحافی افتخار گیلانی کے مطابق مارک ٹلی نے خطے کی تاریخ کے کئی نازک اور فیصلہ کن لمحات خود دیکھے اور دنیا تک پہنچائے۔ انہوں نے 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار اور اندرا گاندھی کے قتل کی ابتدائی خبریں رپورٹ کیں۔
بابری مسجد کے انہدام کے دوران بھی انہوں نے خطرات کے باوجود رپورٹنگ جاری رکھی۔ مارک ٹلی کی تصنیف کردہ کتب، جن میں No Full Stops in India اور Amritsar: Mrs Gandhi’s Last Battle شامل ہیں، آج بھی جنوبی ایشیا کی پیچیدہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
دہلی میں طویل قیام کے دوران مارک ٹلی کا مؤقف رہا کہ صحافت صرف خبروں کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ معاشروں کو گہرائی سے سمجھنے اور ان کی اصل تصویر پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہیں ہمیشہ ایک ایسے صحافی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے رپورٹنگ کو فہمِ معاشرہ سے جوڑ دیا۔



