ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

ترک وزیر خارجہ کا انتباہ: اسرائیل ایران پر حملے کے مواقع تلاش کر رہا ہے

اسرائیلی کارروائی سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے

ترک وزیر خارجہ کا انتباہ: اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے

انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اب بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مواقع تلاش کر رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ امید ہے کہ اسرائیلی قیادت کوئی متبادل اور پرامن راستہ اختیار کرے گی، تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایران پر حملے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی فوجی اقدام سے پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ترکی خطے میں امن و سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے اور ایران کے معاملات میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ہونے والی کسی بھی بڑی پیش رفت کے اثرات براہِ راست ہمسایہ ممالک پر مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے انقرہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی اندرونی صورتحال خطے کے لیے اہم ہے اور ترکی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کو ایک نئے سماجی اور سیاسی امتحان کا سامنا ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ ایرانی عوام اس مشکل مرحلے سے نکل آئیں گے۔

ترک وزیر خارجہ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کو درپیش مسائل کا حل بڑے بین الاقوامی فریقین کے ساتھ سفارتی ذرائع سے نکالنا ترکی کے مفاد میں ہے۔

ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں عارضی طور پر منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر فرانس، لفتھانسا، ایئر کینیڈا اور کے ایل ایم نیدرلینڈز کے مطابق کم از کم اتوار تک اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں نہیں چلائی جائیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ رائل ڈچ ایئر لائنز اور سوئس ایئر نے بھی مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button