
608 دن خلا میں گزارنے والی سنیتا ولیمز کے حیرت انگیز انکشافات
خلا باز سنیتا ولیمز نے خلا میں دیکھے گئے ناقابلِ یقین مناظر بیان کر دیے زمین کے گرد سیٹلائٹس اور آسمانی بجلی: سنیتا ولیمز کا چونکا دینے والا انٹرویو
ریٹائرڈ امریکی خلا باز سنیتا ولیمز نے خلا کے دو حیرت انگیز مناظر سے پردہ اٹھا دیا
امریکی خلا باز اور ناسا کی سابق اہلکار سنیتا ولیمز نے خلا میں اپنے طویل قیام کے دوران دیکھے گئے ایسے دو مناظر کا انکشاف کیا ہے جنہوں نے انہیں سب سے زیادہ حیران کیا۔ یہ انکشاف انہوں نے ایک بھارتی ڈیجیٹل انفلوئینسر کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا۔
سنیتا ولیمز کے مطابق خلا سے زمین کے گرد گردش کرتے بے شمار مواصلاتی سیٹلائٹس کا منظر نہایت غیر معمولی اور چونکا دینے والا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سیٹلائٹس کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ خلا سے زمین کے مدار میں موجود اشیاء واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین کے گرد ایک ہجوم سا موجود ہو۔
انہوں نے دوسرا حیران کن تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے بادلوں کے اوپر بجلی کی توانائی سے پیدا ہونے والی نایاب روشنیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان مظاہر کو سائنسی زبان میں ’بلیو جیٹس‘ اور ’ریڈ اسپرائٹس‘ کہا جاتا ہے، جو زمین کی سطح سے عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے۔
سنیتا ولیمز کے مطابق یہ منفرد مناظر طاقتور کیمروں کی مدد سے خلا سے محفوظ کیے گئے۔ ان تصاویر کو ان کے ساتھی خلا باز ڈان پیٹٹ، میٹ ڈومینک اور نکول آئرز نے قید کیا، جو بعد ازاں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی شیئر کی گئیں۔
انہوں نے ان مناظر کو قدرت کی بے پناہ طاقت اور حسن کی عکاسی قرار دیا۔
واضح رہے کہ سنیتا ولیمز نے اپنے 27 سالہ خلائی کیریئر کے دوران مجموعی طور پر 608 دن خلا میں گزارے اور 9 مرتبہ خلائی چہل قدمی انجام دی، جو کسی بھی خاتون خلا باز کے لیے ایک عالمی ریکارڈ ہے۔



