ٹائٹلسیاست

مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں سخت مؤقف

ہمارے علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ، زندہ رہنے کے لیے بھتہ دینا پڑتا ہے

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جس علاقے میں رہائش پذیر ہیں وہاں طالبان کا کنٹرول ہے، اور وہاں زندگی گزارنے کے لیے بھتہ دینا ایک مجبوری بن چکا ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری افسران بھی طالبان کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق یہاں منظور ہونے والے بجٹس بھی اسی دباؤ کے تحت ترتیب دیے جاتے ہیں، جن میں سے ایک مخصوص حصہ پہلے ہی نکال لیا جاتا ہے۔

8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ملک نے ماضی میں کئی مشکل ادوار دیکھے ہیں، تاہم 8 فروری کو جو کچھ ہوا وہ حد سے بڑھ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے 8 فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ حالیہ قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، خاص طور پر 27ویں آئینی ترمیم میں دی گئی چھوٹ ختم کی جانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق موجودہ حالات میں نہ صرف ان کا گھر بلکہ بچوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

خارجہ پالیسی اور بانی پاکستان کے مؤقف کا حوالہ

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی پالیسیاں اکثر بین الاقوامی دباؤ کے تحت تشکیل دی جاتی ہیں، جبکہ قومی مفاد کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بانی پاکستان کے اسرائیل سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کو بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بانی پاکستان کے فرمودات پر نہ تو سنجیدگی سے غور کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ اور حکومتی فیصلوں پر سوالات

جے یو آئی (ف) کے قائد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی فیصلوں پر نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی کابینہ کو۔ انہوں نے شملہ معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھرے ایوان سے مشاورت کی گئی تھی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر مشاورت اور مفاہمت کی پالیسی اپنائی جائے تو ملک کو درپیش کئی پیچیدہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی کو مبارکباد

انہوں نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزبِ اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان کا سیاسی تجربہ ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق اگر اچکزئی کی نشاندہی کردہ نکات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو مستقبل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

آخر میں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button