
ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی دعوے: حقیقت یا مبالغہ؟
ٹرمپ کے معاشی دعوے غلط ثابت، سرکاری اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی دعوے حقیقت سے کتنے قریب ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے امریکی معیشت کے حوالے سے متعدد دعوے کیے، جو کئی حوالوں سے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں افراطِ زر موجود نہیں، گیس کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں، اور برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین نجی شعبے میں نئی نوکریاں حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، سرکاری اعداد و شمار ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ محنت نے بتایا ہے کہ امریکا میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 2.7 فیصد ہے جبکہ بنیادی افراطِ زر 2.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ٹرمپ کے دعوے کے برعکس ہے۔
ٹرمپ نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ قیمتیں 300 سے 600 فیصد تک کم ہوئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ادویات میں اس حد تک کمی ممکن نہیں اور عام طور پر 100 فیصد سے زیادہ کمی ممکن نہیں ہوتی۔
ٹیرف (درآمدی محصولات) کے ممکنہ سپریم کورٹ فیصلے پر بھی ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو رقم واپس کرنا پڑے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اگر فیصلہ حکومت کے خلاف آیا تو صرف درآمد کنندگان کو محدود رقم واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔
سابق صدر جو بائیڈن کے ٹیرف نافذ نہ کرنے کے ٹرمپ کے دعوے بھی درست ثابت نہیں ہوئے۔ حقیقت میں بائیڈن انتظامیہ نے مختلف اوقات میں روس، چین اور کینیڈا پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے۔
نوکریوں کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں 2 لاکھ 77 ہزار نوکریاں کم ہوئیں، لیکن نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھ گئے۔ تاہم، امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق نجی شعبے میں صرف 50 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئی ہیں، جو ٹرمپ کے دعوے کے برعکس ہے۔
گیس کی قیمتوں کے بارے میں بھی ٹرمپ کا دعویٰ مبہم رہا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں قیمت 1.99 ڈالر فی گیلن ہے، جبکہ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق اوسط قیمت 2.82 ڈالر فی گیلن ہے۔
ٹرمپ کے کار فیکٹریوں سے متعلق دعوے بھی حقیقت پر پورے نہیں اترے۔ ’آکسفورڈ اکنامکس‘ کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں گاڑیوں کی فیکٹریوں کی تعمیر کے اخراجات بائیڈن دور کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔
امریکی ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کے معاشی دعوے طویل عرصے سے حقیقت کے عین مطابق نہیں رہے اور ان کی تشہیری رپورٹس اکثر حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔



