ٹائٹلعالمی امور

امریکی دعوؤں پر گرین لینڈ کے عوام برہم، خودمختاری پر سمجھوتہ نامنظور

ٹرمپ کی دلچسپی پر گرین لینڈ میں تشویش، مقامی افراد کا سخت ردعمل گرین لینڈ کے شہریوں کا واضح مؤقف: امریکی تسلط قبول نہیں

ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیان پر مقامی آبادی میں بے چینی، امریکی کنٹرول کی مخالفت

گرین لینڈ کے شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق حالیہ بیان کے بعد شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت امریکی تسلط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔

گرین لینڈ کے مغربی ساحل پر واقع شہر الیولِسات کے ایک ماہی گیر جوئل ہینسن نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں امریکا کے زیرِ اثر آنے کا تصور خوفزدہ کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق وہ امریکی شہریت اختیار کرنے کے بجائے موجودہ نظام کو بہتر سمجھتے ہیں۔

جوئل ہینسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے الاسکا میں رہنے والے انوئٹ قبائل کی مشکلات کو قریب سے دیکھا ہے، اسی وجہ سے وہ ڈنمارک کے ساتھ وابستگی کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں انہیں آزادی کے ساتھ کام کرنے اور زندگی گزارنے کی سہولت حاصل ہے۔

ماہی گیر کے مطابق گرین لینڈ قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے اور یہاں کے لوگ اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ایک خودمختار قوم بن سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی بیرونی سرمایہ یا امریکی مالی امداد کی ضرورت نہیں۔

ادھر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا کی دلچسپی محض سیکیورٹی معاملات تک محدود نہیں بلکہ گرین لینڈ میں موجود قیمتی معدنی ذخائر بھی اس توجہ کی بڑی وجہ ہیں۔ ان ذخائر میں نایاب عناصر شامل ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں نہایت اہم تصور کیے جاتے ہیں۔

اس وقت گرین لینڈ میں صرف دو کانیں فعال ہیں، تاہم مقامی آبادی کا ماننا ہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کا انتظام خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

مقامی افراد نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی قیادت انسانی اقدار کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ انوئٹ قوم ہزاروں برسوں سے اس سرزمین پر آباد ہے اور یہ زمین ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے، نہ کہ وسائل کی تلاش میں آنے والوں کی۔

واضح رہے کہ گرین لینڈ کو 2009 میں وسیع خودمختاری دی گئی تھی، تاہم یہ اب بھی سرکاری طور پر ڈنمارک کا حصہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button