ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون پر بات چیت جاری
پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت پر فیصلہ باقی ایران میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں، ترک وزیر خارجہ
پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ تاحال طے نہیں ہوا، ترک وزیر خارجہ کی وضاحت
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ کسی نئے دفاعی معاہدے پر ابھی تک دستخط نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے بات چیت ضرور ہوئی ہے، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی معاہدے کو عملی شکل نہیں دی گئی۔
ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے حق میں نہیں اور ایران میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ مسائل کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے معلومات رکھنے والے باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ ممکنہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اس سے باہر کے علاقوں میں بھی۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ گزشتہ سال ستمبر میں طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو نیٹو اتحاد کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ملک ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے بعد اس معاملے پر جاری قیاس آرائیوں میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم دفاعی تعاون سے متعلق مذاکرات کا عمل بدستور جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



