ایران کی آخری ملکہ فرح پہلوی کا نایاب تاج: تاریخ، ڈیزائن اور شاہی ورثہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شاہی تاج صرف اسی دن عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی نمائش کے لیے نہیں لایا گیا۔
ایران کی تاریخ میں تقریباً 60 برس قبل ایک یادگار لمحہ اُس وقت رقم ہوا جب فرح پہلوی نہ صرف ایران کی پہلی تاج پوش ملکہ بنیں بلکہ مسلم دنیا کی بھی پہلی خاتون قرار پائیں جنہیں باقاعدہ طور پر شاہی تاج پہنایا گیا۔ اس منفرد موقع کے لیے تیار کیا گیا تاج بھی اپنی مثال آپ تھا، جو آج بھی دنیا کے نایاب ترین شاہی زیورات میں شمار ہوتا ہے۔
ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی نے 1966 میں اپنی تیسری اہلیہ فرح پہلوی کے لیے اس شاہی تاج کی تیاری کا حکم دیا۔ اُس وقت ملکہ فرح کی عمر محض 29 برس تھی، تاہم اُن کی تاج پوشی کے انتظامات انتہائی شاندار اور تاریخی نوعیت کے تھے۔
ایرانی روایات کے مطابق شاہی تاج میں صرف وہی جواہرات استعمال کیے جا سکتے تھے جو قومی خزانے کا حصہ ہوں اور تہران میں مرکزی بینک کے شاہی ذخیرے میں محفوظ ہوں۔ اسی وجہ سے فرانس کی معروف جیولری کمپنی وان کلیف اینڈ آرپلز کے ماہر پیئر آرپلز کو خصوصی طور پر ایران مدعو کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً چھ ماہ کے دوران 24 مرتبہ تہران کے دورے کیے اور مکمل راز داری کے ساتھ تاج کی تیاری کا مرحلہ مکمل کیا۔
تاج کے حتمی ڈیزائن کے انتخاب سے قبل 50 مختلف خاکے پیش کیے گئے، جن میں سے ایک کو شاہی منظوری ملی۔
اس شاہکار تاج میں مجموعی طور پر 1,469 ہیرے، 36 زمرد، 36 اسپینل اور یاقوت، اور 105 قیمتی موتی جڑے گئے۔ تاج کے عین وسط میں ایک انتہائی نادر زمرد نصب تھا، جس کا وزن مختلف اندازوں کے مطابق 92 سے 150 قیراط کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
تاج کا اندرونی حصہ سبز مخمل سے تیار کیا گیا، جبکہ اس کے ساتھ ہم رنگ زمرد کے جھمکے اور ایک نفیس شاہی ہار بھی بنایا گیا۔ تاج کا وزن تقریباً دو کلوگرام تھا۔ ڈیزائن کے اعتبار سے یہ تاج یورپی طرز پر تیار کیا گیا، جو روایتی ایرانی تاجوں سے خاصا مختلف تھا، جبکہ شاہ محمد رضا پہلوی کا تاج ایران کی قدیم ساسانی سلطنت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
26 اکتوبر 1967 کو تہران کے تاریخی گلستان محل میں منعقد ہونے والی تاج پوشی کی تقریب میں پہلے شاہ محمد رضا پہلوی نے خود کو شہنشاہ ایران قرار دیا، جس کے بعد فرح پہلوی کو باقاعدہ ملکہ ایران کا تاج پہنایا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شاہی تاج صرف اسی دن عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی نمائش کے لیے نہیں لایا گیا۔
آج یہ قیمتی اور نایاب تاج تہران کے مرکزی بینک کے خزانے میں انتہائی سخت سیکیورٹی کے تحت محفوظ ہے اور ایران کے سب سے قیمتی شاہی نوادرات میں شمار ہوتا ہے۔



