
ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو پر سنگین الزام، روس نے امریکی دھمکیوں کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا
ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کو ایرانی عوام کا “مرکزی قاتل” سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندر شہریوں کی ہلاکتوں میں ان دونوں رہنماؤں کی پالیسیاں اور اقدامات براہِ راست ذمہ دار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے جواب میں علی لاریجانی نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران میں عام شہریوں کے قتل اور بدامنی کے اصل محرک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم ایسے بیانات اور دباؤ کی پالیسیوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایرانی عوام احتجاج جاری رکھیں اور “اصل قاتلوں” کو پہچانیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کے باعث انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ممکنہ ملاقاتیں اور مذاکرات منسوخ کر دیے ہیں۔
دوسری جانب روس نے بھی امریکی موقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں ہونے والے احتجاج کو مصنوعی طور پر بھڑکایا گیا اور اب ان کی شدت میں واضح کمی آ رہی ہے۔ ایسے حالات میں ایران کے خلاف امریکی حملے کی دھمکیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
روسی حکام نے خبردار کیا کہ امریکا اگر ایران میں عدم استحکام کو جواز بنا کر فوجی کارروائی کی طرف بڑھا تو یہ قدم عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
روس نے مزید کہا کہ ایران کے غیر ملکی تجارتی شراکت داروں پر محصولات بڑھا کر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کی امریکی کوششوں کو بھی مسترد کیا جاتا ہے۔ ماسکو کے مطابق یہ طریقہ کار بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ روس کھل کر ایران کے مؤقف کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔



