
کیا پاکستان نے امریکا کو ایران پر ممکنہ فوجی حملے کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی؟
پاکستانی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان امریکا کو ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ وزارت نے ان اطلاعات کو بے بنیاد، جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
وزارت کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ امریکا نے اپنے فضائی ری فیولنگ طیارے (KC-135R) اور نگرانی کرنے والے طیارے پاکستان منتقل کر دیے ہیں، جو ایران کی فضائی حدود کے قریب یا اس کے اندر غیر معمولی پروازیں کر رہے ہیں۔ بعض پوسٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان امریکی اسٹیلتھ فائٹر طیاروں (F-35 اور F-22) کو اپنے اڈے یا لانچ کوریڈور فراہم کر رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ ایسے تمام دعوے حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں۔ سرکاری فیکٹ چیک اکاؤنٹ کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ جھوٹی خبریں زیادہ تر ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پھیلائی جا رہی ہیں جو افغانستان اور بھارت سے آپریٹ ہو رہے ہیں اور ماضی میں بھی غلط معلومات پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔
وزارت کے مطابق بعض پوسٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ امریکی جاسوس اور کارگو طیارے دالبندین اور پسنی کے ہوائی اڈوں پر اترے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی مستند شواہد موجود نہیں۔ وزارت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان میں نہ تو امریکی فضائی ری فیولنگ طیارے موجود ہیں اور نہ ہی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) طیارے کسی قسم کی کارروائی کر رہے ہیں۔
وزارت نے امریکی ری فیولنگ طیاروں کی مبینہ سرگرمیوں میں اضافے سے متعلق خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نقل و حرکت پاکستان کے بجائے یورپ میں امریکی تعیناتیوں سے متعلق ہے۔ جون 2025 کی بین الاقوامی رپورٹس، جن میں رائٹرز اور واشنگٹن پوسٹ شامل ہیں، کے مطابق پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے ری فیولنگ طیارے یورپی اڈوں پر منتقل کیے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی معتبر بین الاقوامی یا دفاعی ذریعے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ امریکی KC-135R یا ISR طیارے پاکستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ البتہ امریکا کی جانب سے قطر کے العدید ایئر بیس پر فضائی سرگرمیوں میں اضافے کی تصدیق موجود ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات وہاں سے امریکی جنگی طیاروں، کے سی 135 ری فیولنگ ٹینکر اور بی 52 اسٹریٹیجک بمبار طیاروں نے پروازیں کیں۔
وزارتِ اطلاعات نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کی کھل کر مذمت کی تھی۔ وزارت کے مطابق یہی مؤقف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی میں سہولت فراہم نہیں کر رہا۔
وزارت کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف اس نوعیت کا بیانیہ غیر ذمہ دارانہ، الزام تراشی پر مبنی اور بغیر کسی تصدیق کے پھیلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو امریکا اور ایران کے تنازع میں زبردستی گھسیٹنا ہے۔
نتیجہ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق ممکنہ کارروائی کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین امریکا کو فراہم کر رہا ہے، تاہم وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ تمام دعوے جھوٹے، بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ پاکستان نہ تو امریکی طیاروں کو اڈے فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا حصہ ہے۔



