
امریکا کی ایران کے خلاف سائبر حملوں کی تیاری کا دعویٰ، برطانوی اخبار ٹیلی گراف
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوری فوجی حملہ قبل از وقت ہو سکتا ہے
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ سائبر حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے ردعمل کے طور پر زیرِ غور ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد پر “سزا دینے” کے لیے سائبر آپریشنز کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ مجوزہ سائبر کارروائیاں تہران کی جانب سے احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ٹیلی گراف کے مطابق امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ براہِ راست فوجی حملے کے بجائے اس مرحلے پر سائبر آپشنز زیادہ مؤثر اور کم خطرناک تصور کیے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوری فوجی حملہ قبل از وقت ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز امریکی حکام صدر ٹرمپ کو غیر مہلک اقدامات پر مبنی متعدد تجاویز پیش کریں گے۔ ان میں آن لائن حکومت مخالف بیانیے کو مضبوط بنانا اور ایرانی فوجی و شہری تنصیبات کے خلاف خفیہ سائبر ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال جیسے آپشنز شامل ہیں۔
اس بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے باعث انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تیسرے روز بھی جاری ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا بیرونی دنیا سے رابطہ شدید متاثر ہو چکا ہے۔
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک اس طرح کے معاملات میں خاص مہارت رکھتے ہیں اور ان کی کمپنی جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔



