تحقیقاتی رپورٹسٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

کیا احتجاج صرف ایران میں ہو رہے ہیں؟

یا اصل مسئلہ ایران کی عالمی مزاحمتی حیثیت ہے؟

ایک تحقیقی و تجزیاتی فیچر

دنیا اس وقت جس سیاسی اور معاشی دباؤ سے گزر رہی ہے، اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف، اور اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ مہنگائی، توانائی بحران، جنگی اخراجات اور عدم مساوات نے تقریباً ہر خطے میں عوامی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
اس کے باوجود عالمی میڈیا میں احتجاج کا ذکر آتے ہی ایک مخصوص ملک بار بار سرخیوں میں آتا ہے: ایران۔

یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ صحافتی اور اخلاقی بھی ہے:
کیا احتجاج صرف ایران میں ہو رہے ہیں؟ یا میڈیا کسی خاص بیانیے کو طاقت دے رہا ہے؟


احتجاج: عالمی ڈیٹا کیا کہتا ہے؟

یونیورسٹی آف شکاگو کے ACLED (Armed Conflict Location & Event Data Project) کے مطابق 2022 سے 2025 تک دنیا بھر میں احتجاجی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق:

  • امریکہ، فرانس، بھارت اور برطانیہ میں احتجاجی واقعات کی تعداد ایران سے زیادہ رہی

  • یورپی یونین میں توانائی بحران کے بعد مظاہروں میں 40 فیصد اضافہ ہوا

  • جنوبی ایشیا میں زرعی اور اقلیتی احتجاج مسلسل رپورٹ ہوئے

اس کے باوجود عالمی میڈیا کوریج میں ایران کا تناسب غیر متوازن نظر آتا ہے۔


فرانس: پنشن اصلاحات اور ریاستی تشدد

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف مظاہروں کے دوران:

  • درجنوں افراد مستقل بینائی سے محروم ہوئے

  • ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں

  • پولیس پر طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات لگے

تاہم بی بی سی، رائٹرز اور فرانسیسی میڈیا نے اسے “ریاستی نظم و ضبط” اور “قانونی ردعمل” کے فریم میں پیش کیا، نہ کہ ریاستی جبر کے طور پر۔


امریکہ: آزادیٔ اظہار کے دعوے اور زمینی حقیقت

Pew Research Center اور Human Rights Watch کے مطابق:

  • Black Lives Matter احتجاج کے دوران 25 سے زائد ریاستوں میں نیشنل گارڈ تعینات ہوا

  • 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے گئے

  • صحافیوں پر تشدد کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے

اس کے باوجود امریکی احتجاج کو “نسلی تناؤ” یا “سماجی تقسیم” کے الفاظ میں سمیٹ دیا گیا، جبکہ ایران میں اسی نوعیت کے مظاہروں کو “نظام کے خاتمے کی علامت” قرار دیا گیا۔


بھارت: جمہوریت، احتجاج اور خاموشی

Freedom House اور V-Dem Institute بھارت کی جمہوریت کو “جزوی آزاد” قرار دے چکے ہیں۔
کسان تحریک، شہریت قوانین، دلتوں کے حقوق اور کشمیر کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بارہا تشویش ظاہر کی، مگر مغربی میڈیا میں یہ خبریں اکثر:

  • محدود جگہ

  • غیر نمایاں سرخی

  • یا سرکاری موقف کے ساتھ شائع ہوئیں


یورپ: مہاجرین اور یوکرین جنگ

جرمن تھنک ٹینک SWP (German Institute for International and Security Affairs) کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں حکومت مخالف احتجاج میں نمایاں اضافہ ہوا۔
توانائی کی قیمتوں اور جنگی اخراجات کے خلاف عوامی غصہ سڑکوں پر آیا، مگر اسے “پالیسی اختلاف” کہا گیا، نہ کہ نظامی بحران۔


خلیجی ممالک: ڈیٹا کی خاموشی

خلیجی ریاستوں میں احتجاج سے متعلق ڈیٹا محدود ہے، جس کی وجہ سخت میڈیا کنٹرول اور قوانین ہیں۔
Reporters Without Borders کے مطابق یہاں اظہارِ رائے پر شدید پابندیاں ہیں، جس کے باعث عوامی ناراضگیاں منظر عام پر نہیں آتیں۔


ایران: مسئلہ احتجاج یا مسئلہ حیثیت؟

ماہرینِ ابلاغیات کے مطابق (Noam Chomsky، Edward Herman – Manufacturing Consent)
میڈیا اکثر طاقتور سیاسی مفادات کے تحت بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔

ایران اس لیے نمایاں ہے کیونکہ وہ:

  • امریکی عالمی نظام کو چیلنج کرتا ہے

  • اسرائیلی پالیسیوں کا سخت مخالف ہے

  • فلسطین، لبنان اور مزاحمتی بلاک کی عملی حمایت کرتا ہے

  • پابندیوں کے باوجود خودمختار خارجہ پالیسی رکھتا ہے

یہی عوامل ایران کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ سیاسی علامت بنا دیتے ہیں۔


غیر مغربی میڈیا اور متبادل بیانیہ

  • روسی میڈیا ایران کے احتجاج کو معاشی پابندیوں اور مغربی دباؤ سے جوڑتا ہے

  • چینی میڈیا اسے اندرونی مسئلہ قرار دے کر مغربی دوہرے معیار کو ہدف بناتا ہے

  • ایرانی میڈیا احتجاج اور بیرونی مداخلت دونوں کو زیر بحث لاتا ہے

  • فلسطینی ذرائع ایران کو واحد ریاست قرار دیتے ہیں جو عملی مزاحمت میں شریک ہے

یہ زاویے مغربی میڈیا میں شاذونادر ہی جگہ پاتے ہیں۔


کیا ایران میں مسائل نہیں؟ تحقیقی جواب

ایران میں مہنگائی، انتظامی کمزوریاں اور عوامی مطالبات حقیقت ہیں۔
یہ بات خود ایرانی پارلیمانی رپورٹس اور اقوام متحدہ کے معاشی ڈیٹا میں تسلیم شدہ ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا کسی ملک کو عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بعد ہی اپنے مسائل بیان کرنے کا حق دیا جاتا ہے؟


نتیجہ: خبر نہیں، بیانیہ

تحقیقی شواہد واضح کرتے ہیں کہ احتجاج ایک عالمی مظہر ہیں،
مگر ایران کے احتجاج کو غیر معمولی اہمیت دینا
ایک صحافتی انتخاب نہیں، بلکہ سیاسی ترجیح ہے۔

اسی لیے ایران میں احتجاج
خبر نہیں رہتے…
بلکہ ایک بیانیاتی ہدف بن جاتے ہیں۔

کیونکہ مسئلہ احتجاج نہیں…
مسئلہ ایران کی مزاحمت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button