ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

یو اے ای کی نئی چال: سعودی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجی اڈا بنانے کا منصوبہ

سعودی ذرائع ابلاغ: امارات سعودی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے امارات کا متنازع منصوبہ، اسرائیلی فوجی اڈے سے علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

سعودی میڈیا کا دعویٰ: امارات کا سعودی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجی اڈا قائم کرنے پر غور

سعودی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک ایک اسرائیلی فوجی اڈا بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک نیا اور حساس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ فوجی تنصیب ’’عرادہ‘‘ نامی علاقے میں قائم کی جائے گی، جو سعودی عرب سے ملحقہ سرحد کے قریب واقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اڈے میں تقریباً 800 اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کا تسلسل ہے، جس کا مقصد نہ صرف دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنا بلکہ خطے میں اسرائیلی فوجی موجودگی کو وسعت دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

عرب مبصرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس ممکنہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر اثرانداز ہونے والا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بعض خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اماراتی انٹیلیجنس سے منسوب ہیں۔ ان مبینہ دستاویزات میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے درمیان انٹیلیجنس تعاون، غزہ اور قطر میں مبینہ جاسوسی سرگرمیوں، اور اسرائیلی وزیراعظم کی براہ راست ہدایات پر کارروائیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امارات کے اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عرب دنیا میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button