ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

ایران ہل کر رہ گیا! خامنہ ای کے ممکنہ فرار کی خبریں، عالمی میڈیا میں ہلچل

ایران میں بغاوت کا خدشہ؟ سپریم لیڈر خامنہ ای کا خفیہ پلان بی بے نقاب حکومت مخالف احتجاج، امریکی و اسرائیلی دباؤ: خامنہ ای نے ماسکو جانے کا منصوبہ تیار کر لیا

ایران میں بڑھتا بحران: سپریم لیڈر خامنہ ای نے ہنگامی پلان بی تیار کر لیا

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے باعث ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے متبادل حکمتِ عملی، یعنی پلان بی، تیار کر لیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی ذرائع ابلاغ نے ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انتہائی خراب صورتحال میں خامنہ ای ایران چھوڑ کر روس کے دارالحکومت ماسکو منتقل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر سیکیورٹی ادارے احتجاج کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو گئے یا ان کی وفاداری میں دراڑ پڑی تو خامنہ ای اپنے قریبی رفقا، اہلِ خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ہمراہ ملک سے باہر جانے کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس ممکنہ انخلا کے لیے تہران سے باہر نکلنے کے مختلف محفوظ راستوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، جبکہ بیرونِ ملک اثاثے، جائیدادیں اور نقد رقوم محفوظ بنانے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری نقل مکانی ممکن ہو سکے۔

ادھر ایرانی حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ معاشی بدحالی، مہنگائی، کرنسی کی تیز گراوٹ، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ انہی حالات کا دباؤ سیکیورٹی فورسز پر بھی پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی کھلی حمایت اور ممکنہ فوجی مداخلت کے بیانات، ساتھ ہی اسرائیلی قیادت کی سخت زبان نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

ایرانی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور شام جیسے ممالک کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں، جہاں معاشی بحران نے حکومتی نظام کو کمزور کر دیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں سپریم لیڈر کا سخت مؤقف اور مظاہرین کو شرپسند قرار دینا کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے پاس فی الحال نہ بگڑتی معیشت کو سنبھالنے کا کوئی مؤثر روڈ میپ ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسا لچکدار مؤقف دکھائی دیتا ہے جو امریکا اور اسرائیل کو مطمئن کر سکے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button