ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

ایران کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، عباس عراقچی

ایران میں احتجاج اور امریکی بیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ردعمل ایران کا انتباہ: امریکی بیانات داخلی معاملات میں مداخلت تصور ہوں گے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا امریکی صدر کے بیان پر سخت ردعمل

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو غیر سنجیدہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی املاک پر کسی بھی قسم کے مجرمانہ حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ ایرانی عوام ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ملک کے اندرونی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ملک کی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں مناسب جواب دینا جانتی ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی ادارے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران میں زرِ مبادلہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث متاثر ہونے والے شہری احتجاج کر رہے ہیں، جو ان کا قانونی اور جمہوری حق ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ بعض مقامات پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف مزید طاقت استعمال کی گئی تو امریکہ مداخلت کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ پُرامن مظاہرین کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button