
ایران میں مظاہرے، ٹرمپ کی تہران کو کھلی وارننگ: “امریکا مدد کے لیے تیار ہے”
ایران میں مظاہرے: ٹرمپ کی تہران کو سخت وارننگ، مظاہرین کی حمایت کا اعلان
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف سخت اقدامات بند نہ کیے گئے تو امریکا مظاہرین کی حمایت کے لیے عملی قدم اٹھا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی حکام پُرامن احتجاج کرنے والوں پر طاقت کا استعمال اور فائرنگ جاری رکھتے ہیں تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد اور ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں، تاہم اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو امریکا متاثرہ افراد کی مدد کے لیے سامنے آئے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایران میں جاری احتجاجی تحریک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں پُرامن مظاہرین کو دھمکیاں، تشدد اور گرفتاریاں درپیش ہیں، جن کی ویڈیوز اور رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا جرم نہیں، اور ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے حقوق کا احترام کرے اور جبر کی پالیسی ختم کرے۔
ادھر ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے پانچویں روز مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس اور انسانی حقوق کی تنظیم ہنگاو کے مطابق جنوب مغربی شہر لوردگان میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رپورٹس کے مطابق مغربی علاقوں میں ازنا شہر میں تین جبکہ کوہداشت میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
احتجاج میں شریک بعض مظاہرین نے ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے بادشاہت کی بحالی کے نعرے بھی لگائے گئے ہیں۔



