
تاریخی لمحہ: زہران ممدانی قرآن پر حلف لے کر نیویارک کے میئر بن گئے
ایک قرآن اور ایک تاریخ ساز حلف — نیویارک کا نیا میئر سادہ تقریب، بڑا پیغام: زہران ممدانی نے قرآن پر حلف اٹھا لیا
’قرآن پر حلف اٹھانا میرے لیے اعزازِ عظیم ہے‘ — زہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھال لیا
امریکا کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نوجوان مسلمان سیاست دان زہران ممدانی نے جمعرات کی علی الصبح نیویارک کے نئے میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ آئندہ چار برسوں میں ان کی سیاست کا ٹکراؤ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔
34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے آدھی رات کے فوراً بعد نیویارک سٹی ہال کے نیچے واقع ایک غیر فعال سب وے اسٹیشن میں حلف برداری کی تقریب منعقد کی، جس کے بعد وہ امریکا کے سب سے بڑے شہر کی قیادت سنبھالنے والے پہلے مسلمان میئر بن گئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق زہران ممدانی نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا۔ ان کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا کہ سادہ اور غیر روایتی مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے یکجہتی کی علامت تھا، کیونکہ ممدانی نے انتخابی مہم میں مہنگائی کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حلف کے دوران قرآنِ پاک کے دو نسخے استعمال کیے گئے، جن میں ایک ان کے دادا سے منسوب تھا جبکہ دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر فار ریسرچ ان بلیک کلچر سے لیا گیا تھا۔
تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی اس سرنگ کے اندر ہو یا شہر کی سطح پر، یہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے سب وے اسٹیشن کو نیویارک کی زندگی، صحت اور تاریخی ورثے میں عوامی ٹرانسپورٹ کی اہمیت کی علامت قرار دیا۔
زہران ممدانی کی نجی حلف برداری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کرائی۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں، جبکہ ان کے والدین — معروف فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی — بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
بعد ازاں دن کے وقت ایک بڑی عوامی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں معروف سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت کئی بائیں بازو کے رہنما خطاب کریں گے۔ اس تقریب میں تقریباً چار ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ براڈوے پر بڑی اسکرینوں کے ذریعے تقریب کو براہِ راست دکھانے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
نیویارک کے قوانین کے مطابق میئر کی چار سالہ مدت یکم جنوری سے شروع ہوتی ہے، اسی وجہ سے اختیارات کی بروقت منتقلی کے لیے آدھی رات کے فوراً بعد مختصر حلف برداری کی روایت قائم ہے۔
یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے زہران ممدانی سات برس کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے۔ محدود سیاسی پس منظر کے باوجود وہ پہلے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر میئر کے منصب تک پہنچے۔
انہوں نے سابق میئرز اور سابق امریکی انتظامیہ سے وابستہ تجربہ کار افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے، جبکہ کاروباری اور رئیل اسٹیٹ حلقوں سے بھی رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔ مہم کے دوران شہر چھوڑنے کی پیش گوئیاں کرنے والے بعض دعوؤں کو رئیل اسٹیٹ ماہرین نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
زہران ممدانی کے انتخابی وعدوں میں کرایوں پر کنٹرول، مفت بس سروس، مفت بچوں کی نگہداشت اور عوامی اخراجات میں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ 20 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے اور 50 فیصد ووٹ لے کر آزاد امیدوار اینڈریو کومو پر واضح برتری حاصل کی، جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بہت پیچھے رہے۔



