
پاکستان 2026 میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بننے کے قریب ہو گیا
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے آبادی (UNFPA) کے مطابق پاکستان سال 2026 تک دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا، جہاں آبادی کا حجم 22 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
یو این ایف پی اے پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے کو صرف ایک مسئلہ یا بوجھ کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے پائیدار، جامع اور متوازن ترقی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ 2026 کے تناظر میں قومی سطح پر پالیسی سازی کے طریقہ کار میں تبدیلی ناگزیر ہے، خصوصاً نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے فارمولے میں آبادی سے متعلق عوامل کو زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ محض آبادی کے مجموعی حجم کو بنیاد بنانے کے بجائے مستقبل پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی جائے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی تحفظ، متوازن آبادیاتی نتائج اور صحت و تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مالی مراعات دی جائیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق ایسی اصلاحات سے مالی وسائل کو انسانی ترقی کے اشاریوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جبکہ شفافیت، اختراع اور جوابدہی کے نظام کو بھی فروغ ملے گا۔ اس سے آبادی سے متعلق پالیسیاں محض دستاویزات تک محدود رہنے کے بجائے عوامی سطح پر حقیقی فوائد میں تبدیل ہو سکیں گی۔
ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کی سفارشات پر مؤثر عملدرآمد کے لیے واضح احتسابی نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کی فراہمی پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مستند آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
بیان میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ بعض پیش رفت کے باوجود پاکستان کو اب بھی سنگین سماجی اور صحت سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک محدود رسائی، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور دور دراز علاقوں میں تولیدی صحت کی معیاری خدمات کی کمی شامل ہیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل نہ صرف شرحِ پیدائش میں سست کمی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ملک میں غیر متوازن ترقیاتی نتائج کو بھی جنم دے رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔



