ٹائٹلسیاست

پی ٹی آئی یوکے نے عسکری قیادت سے متعلق متنازع پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کر دی؟

عسکری قیادت کے خلاف ویڈیو پر پی ٹی آئی یوکے کی وضاحت، پوسٹ حذف پی ٹی آئی یوکے کا غیرقانونی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان

پی ٹی آئی یوکے نے عسکری قیادت سے متعلق متنازع ویڈیو حذف کر دی، غیرقانونی عمل سے لاتعلقی کا اعلان

پاکستان تحریکِ انصاف کے برطانیہ چیپٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی وہ متنازع پوسٹ ہٹا دی ہے جس میں پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو شامل تھی۔ پارٹی کے مطابق یہ اقدام کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچنے اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی یوکے کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جماعت کسی بھی غیرقانونی سرگرمی یا تشدد پر اکسانے کی حمایت نہیں کرتی۔ پارٹی نے آزاد شہریوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا عوامی بیانات میں احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعے کے روز پاکستان کے دفترِ خارجہ نے عسکری قیادت کے خلاف بیرونِ ملک سے دیے گئے اشتعال انگیز بیانات کے معاملے پر قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر میٹ کینل کو طلب کر کے باضابطہ ڈیمارش جاری کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 23 دسمبر کو پی ٹی آئی یوکے کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر مظاہرین کو پی ٹی آئی کے جھنڈے تھامے عسکری قیادت کے خلاف نعرے اور دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا تھا۔ بعد ازاں یہ ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی۔

ہفتے کی صبح پی ٹی آئی یوکے نے وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پوسٹ ایک شہری کے بیان پر مبنی تھی، جسے احتیاطی تدبیر کے طور پر حذف کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے نزدیک اس بیان کا مقصد تشدد پر اکسانا نہیں تھا، تاہم کسی بھی قانونی یا اخلاقی ابہام سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔

پی ٹی آئی یوکے نے اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مختلف نوعیت کے دباؤ اور مشکلات کا سامنا ہے، جن کی تحقیقات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جماعت کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی طویل حراست نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

بیان کے اختتام پر پی ٹی آئی یوکے نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قانون کی بالادستی اور پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، اور امید ظاہر کی کہ متعلقہ شہری کو کسی بھی قسم کے سرحد پار دباؤ یا غیرمنصفانہ رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جبکہ برطانوی حکومت اس کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button