ٹائٹلسیاست

تحریک تحفظ آئین کا اعلان: عمران خان کی جانب سے مذاکراتی ٹیم نامزد

نئے میثاق کی ضرورت، تحریک تحفظ آئین کا مؤقف اڈیالہ جیل مذاکرات کا مرکز ہوگا: محمود اچکزئی سیاسی قیدیوں کی رہائی مذاکرات کا بنیادی نکتہ قرار

عمران خان  نے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے دیا

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو ملک کے موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔

اخونزادہ حسین کے مطابق ملک کو درپیش بحران سے نکلنے کے لیے نئے میثاقِ قومی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کا مرکز اڈیالہ جیل ہوگا اور تمام رہنمائی وہیں سے لی جائے گی۔

ترجمان نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین نے مذاکرات میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کو بنیادی نکتہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن مذاکرات کے لیے پہل نہیں کرتی بلکہ حکومت خود پہل کرتی ہے، اور تحریک تحفظ آئین نے حکومت کی مذاکراتی پیشکش کا باضابطہ جواب دے دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک قابلِ احترام سیاسی رہنما ہیں اور انہیں قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے کراچی میں مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کی تھی۔

اخونزادہ حسین کا کہنا تھا کہ تحریک تحفظ آئین اور مولانا فضل الرحمان کے بیانیے میں بڑی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے، جو ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

فواد چوہدری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی سے تحریک تحفظ آئین کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس پلیٹ فارم کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں فواد چوہدری کس ایجنڈے کے تحت اور کس کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button