
نیتن یاہو، یونان اور قبرص کا اجلاس، ترکی کے خلاف دفاعی تعاون پر اتفاق
یونان، قبرص اور اسرائیل کا دفاعی اتحاد: ترکی کے لیے اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ نیا عسکری منصوبہ، 2,500 فوجیوں کی تعیناتی اور ترکی کا کردار
ترکی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری، یونانی جزائر اور قبرص میں صہیونی فوجی اڈوں کے قیام کا منصوبہ
ترکی کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی تیاری کے تحت صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس میں یونان کے وزیراعظم اور قبرص کے صدر کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اس ملاقات کو مشرقی بحیرہ روم میں بدلتی ہوئی علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں سیکیورٹی، دفاعی اور ٹیکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ یونان اور قبرص کے ساتھ تعاون اور طاقت کے استعمال کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام قائم کیا جائے گا۔
صہیونی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بالواسطہ طور پر ترکی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو قوتیں اپنی ’’سلطنتوں کے دوبارہ قیام‘‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔ عبرانی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کا یہ اشارہ واضح طور پر ترکی کی جانب تھا۔
نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صہیونی ریاست کسی ملک کے ساتھ تنازع نہیں چاہتی، بلکہ امن، استحکام اور آبی گزرگاہوں کے تحفظ کی خواہاں ہے۔ انہوں نے یونان اور قبرص کے ساتھ مشترکہ مسائل پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے اس اتحاد کو کسی آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس دراصل علاقائی فریقوں، خاص طور پر ترکی، کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ مشرقی بحیرہ روم میں نئے عسکری اتحاد تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
ادھر معروف اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب، یونان اور قبرص مشرقی بحیرہ روم میں مشترکہ فوجی ریپڈ رسپانس فورس تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں بری، فضائی اور بحری افواج شامل ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ فورس میں تقریباً 2,500 فوجی شامل ہوں گے، جنہیں یونانی جزائر، قبرص اور مقبوضہ علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا اور خطے میں عسکری توازن قائم رکھنا بتایا جا رہا ہے۔



