پاکستانٹائٹل

ارشد انصاری اور لاہور پریس کلب: صحافیوں کی فلاح کی عملی مثال

لاہور پریس کلب محض ایک عمارت یا ادارہ نہیں بلکہ یہ صحافت سے وابستہ افراد کی امیدوں، جدوجہد اور اجتماعی خوابوں کی علامت ہے۔ اس ادارے کی قیادت جب وژن، خلوص اور تسلسل کے ساتھ کی جائے تو اس کے اثرات صرف اعلانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ زمین پر نظر آتے ہیں۔ لاہور پریس کلب کے موجودہ صدر ارشد انصاری اور ان کی ٹیم نے اسی طرزِ قیادت کی ایک نمایاں مثال قائم کی ہے۔

ایک طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنے والی اس قیادت پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے وقت ضائع کیا یا محض نمائشی اقدامات پر اکتفا کیا۔ ارشد انصاری اور ان کے رفقا نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کو نعرہ نہیں بلکہ عملی ایجنڈا بنایا۔ خاص طور پر صحافیوں کے لیے ہاؤسنگ کالونی کا خواب، جو برسوں سے محض فائلوں اور وعدوں تک محدود رہتا تھا، ان کی مسلسل جدوجہد سے حقیقت میں بدلا۔

لاہور پریس کلب ہاؤسنگ کالونی کا فیز ون، اس کے بعد ایف بلاک، اور اب فیز ٹو کی پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف اور کوشش مسلسل ہو تو سرکاری نظام کی پیچیدگیاں بھی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ یہ درست ہے کہ ہاؤسنگ کالونیاں حکومت ہی بناتی ہے، لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حکومت کو متحرک رکھنے، فائلوں کو آگے بڑھانے اور وعدوں کو منصوبوں میں بدلنے کے پیچھے ارشد انصاری اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز محنت، رابطہ کاری اور مستقل مزاجی شامل ہے۔

ارشد انصاری کی قیادت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ صحافیوں کے مسائل کو محض اجلاسوں میں نہیں دہراتے بلکہ انہیں متعلقہ فورمز تک مؤثر انداز میں پہنچاتے ہیں۔ حکومتِ وقت سے مسلسل رابطہ، ادارہ جاتی سطح پر مذاکرات، اور صحافی برادری کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا ان کی سیاست کا محور رہا ہے۔

ان کی ٹیم نے بھی اس سفر میں محض رسمی کردار ادا نہیں کیا بلکہ ہر مرحلے پر عملی معاونت فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پریس کلب آج صحافیوں کے لیے نہ صرف ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے بلکہ فلاحی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔

تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر اعترافِ کارکردگی بھی انصاف کا تقاضا ہے۔ ارشد انصاری اور ان کی ٹیم نے جو کچھ حاصل کیا، وہ محض دعوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ٹھوس منصوبوں اور زمینی حقائق پر مبنی کامیابیاں ہیں۔ ہاؤسنگ جیسے بڑے مسئلے پر پیش رفت کسی ایک فرد کے فائدے کی نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

آج اگر لاہور پریس کلب کی قیادت کو ایک فعال، متحرک اور فلاحی سوچ رکھنے والی قیادت کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت کا بیان ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ سفر اسی خلوص، اسی تسلسل اور اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گا، تاکہ صحافی خود باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرہ ایک مضبوط، خودمختار اور محفوظ صحافت سے مستفید ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button