عالمی امورمشرقِ وسطیٰ

اسرائیل میں ایران سے مبینہ روابط کا بڑھتا دائرہ، مختلف شعبوں کے افراد زد میں

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے لیے معلومات فراہم کرنے کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اس مبینہ نیٹ ورک میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اساتذہ، سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ افراد اور طلبہ بھی شامل پائے گئے ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب تل ابیب کے قریب واقع شہر بات یام کے میئر نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ قومی سلامتی سے متصادم کسی بھی رابطے یا مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شاباک نے حالیہ عرصے میں متعدد افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ مالی فائدے کے عوض ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔ چینل 12 کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سامنے آنے والے بعض معاملات کا تعلق فوجی اداروں، حساس تعلیمی مراکز اور معروف کاروباری حلقوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شاباک نے پہلی بار مقامی انتظامیہ کے ذریعے عوام سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ وقتی مالی فائدے کے لالچ میں دشمن کے لیے کام کرنے سے گریز کریں۔ بات یام کے میئر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس ایسے افراد کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے، اور کسی بھی وقت ان کے خلاف کارروائی ممکن ہے، جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے میئر کے بیان کو اسرائیل میں مبینہ جاسوسی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا عملی اعتراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس بڑھتے ہوئے چیلنج پر شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سیکیورٹی ذریعے نے چینل 12 کو بتایا کہ ان کیسز میں واضح اضافہ ہوا ہے، خصوصاً تعلیمی اداروں میں، جہاں نوجوانوں کو پیسے کا لالچ دے کر راغب کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ کسی عوامی مقام یا شاپنگ سینٹر کی تصویر فراہم کرنا ایک معمولی عمل ہے، اور اس کے ذریعے وہ سامنے والے فریق کو گمراہ کر رہے ہیں، مگر وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ یہی بظاہر معمولی اقدامات مستقبل میں بڑے سیکیورٹی خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہیکرز کے ایک گروہ "حنظلہ” نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسرائیل میں جوہری تحقیق سے منسلک بعض نظاموں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ گروپ کے مطابق انہیں ایک اسرائیلی جوہری سائنسدان کی ذاتی معلومات بھی حاصل ہوئیں، اور اسی بنیاد پر انہوں نے اس کی گاڑی تک ایک پیغام اور پھولوں کا گلدستہ پہنچایا۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button