عالمی امورمشرقِ وسطیٰ

جنوبی یمن کے گروہوں اور اسرائیل کے مبینہ روابط، ٹائمز کی رپورٹ

برطانوی جریدے ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عدن میں قائم جنوبی کونسل برائے انتقالِ اقتدار کے بعض عناصر کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط موجود ہیں اور یہ فریق صنعا کے خلاف مشترکہ مفادات کے تحت سرگرمِ عمل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی عبوری کونسل کے چند رہنماؤں کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جن کے دوران باہمی تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

ٹائمز کا کہنا ہے کہ عدن میں موجود کونسل جنوبی یمن کی فوری علیحدگی کے بدلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ یمن میں علیحدگی پسندی کا یہ منصوبہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اثرورسوخ کے تحت ایک طویل المدتی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بھی شامل ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ جنوبی یمن کے مسلح گروہ اسرائیل کو سیاسی اور سکیورٹی نوعیت کی سہولتیں فراہم کرنے پر آمادہ ہیں اور اس کے بدلے بین الاقوامی پشت پناہی حاصل کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت پیش رفت ہے، جس میں اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل یمن کو مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتا ہے اور صنعا کی مضبوط ہوتی حیثیت کو اپنے لیے ایک سنجیدہ چیلنج تصور کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل مقامی باغی گروہوں کو ساتھ ملا کر بحیرہ احمر اور جنوبی یمن میں اپنے سیاسی اور سکیورٹی اہداف کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button