تحقیقاتی رپورٹسعالمی امور

خاموش جنگ: اسرائیلی نصاب میں فلسطینیوں کے خلاف تعصب کی گونج

دشمنی کی وہ آگ جو کتاب کے صفحوں میں جلتی ہے

اسرائیل کے جدید، روشن کلاس رومز میں بیٹھے چھوٹے بچے…
رنگین ڈرائنگز، پینسلوں اور نقشوں کے بیچ پنپتے خواب…
لیکن ان خوابوں کی تہوں میں ایک ایسی خاموشی بھی ہے جو بولتی نہیں—
صرف ذہنوں میں ایک مخصوص نقشہ بناتی ہے۔

یہاں کوئی استاد کھلے لفظوں میں نفرت سکھاتا نظر نہیں آتا۔
کوئی بورڈ پر دشمنی نہیں لکھتا۔
لیکن پھر بھی، کئی آزاد محققین اور تعلیمی ماہرین برسوں سے ایک سوال اُٹھا رہے ہیں:

کیا اسرائیلی اسکول اپنے بچوں کو وزارتِ تعلیماسرائیلوں کے بارے میں وہ سب سکھا رہے ہیں،
جو آنے والے کل کی دشمنی کا بیج بن سکتا ہے؟

یہ کہانی اسی سوال کی گہرائی میں اترتی ہے۔

1. ریاست اور نصاب: بیانیہ کس کا ہے، مقصد کیا؟

دنیا کی ہر ریاست اپنے نصاب کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی تشکیل کرتی ہے۔
لیکن اسرائیل جیسی جگہ، جہاں شناخت اور تنازعہ دونوں نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں،
تعلیم محض علم کا ذریعہ نہیں—
بلکہ بیانیے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

اسرائیلی وزارتِ تعلیم کے تحت نصاب تین بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے:

  1. قومی شناخت کی تعمیر

  2. سکیورٹی کا بیانیہ اور خطرات کی تشریح

  3. ریاستی بیانیے کا تحفظ

یہی وہ راستہ ہے جہاں فلسطینیوں کی تصویر…
ناقابلِ دید ہو جاتی ہے۔

2. محققین کا معاملہ: نصابی کتابوں میں “دیگر” کی پیش کش

اس بحث کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے والی شخصیت ہے
نوریٹ پیلڈ-الہانان
اسرائیلی محقق، جنہوں نے 7 سال تک
سینکڑوں درسی کتب کا باریک بینی سے تجزیہ کیا۔

ان کے نتائج چونکا دینے والے تھے:

  • فلسطینی نصابی کتب میں کسی عام انسان کے طور پر نظر نہیں آتے۔

  • زیادہ تر تصویریں انہیں خطرہ، پسماندہ، یا پرتشدد ماحول سے جوڑتی ہیں۔

  • فلسطینیوں کی ثقافت، تاریخ، ادب، زبان—یا تو غیر موجود ہے
    یا حاشیے پر دھکیل دی گئی ہے۔

  • نقشوں میں “فلسطین” نام کا اضافہ کم از کم صورت حال میں ہوتا ہے،
    زیادہ تر اسے “متنازع علاقہ” کہا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ مواد “نسل پرستی نہیں،
بلکہ نسلی غیر مرئیت (Erasure)” ہے۔

یہ وہ خاموشی ہے جسے وہ “ideological weapon” قرار دیتی ہیں۔

3. نقشے، نشانیاں، اور وہ لکیریں جو ذہن بدلتی ہیں

جغرافیہ اور تاریخ—
یہ وہ دو مضامین ہیں جن سے اسرائیلی بچے
اپنے ملک، پڑوسیوں اور دشمنوں کا تصور پہلی بار بناتے ہیں۔

نقشوں میں کیا دکھایا جاتا ہے؟

بہت سے اسکولوں میں:

  • اسرائیل ایک مکمل اور متحد ریاست کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

  • مغربی کنارے، غزہ، اور مشرقی یروشلم—
    یا تو “متنازع”، “خطرے میں”
    یا “یہودی قومی ورثہ” کے حصے کے طور پر۔

فلسطینی کہیں نظر آتے ہیں؟

صرف دو صورتوں میں:
یا وہ تشدد کے تناظر میں نظر آتے ہیں،
یا پھر عدمِ موجودگی کی صورت میں۔

تعلیم میں عدمِ موجودگی بھی سیاست ہوتی ہے۔
جب آپ کسی قوم کو کتاب سے نکال دیتے ہیں،
تو وہ ذہن سے بھی نکلنے لگتی ہے۔

4. تاریخ کا بیانیہ: نکبہ کا غائب ہونا

1948ء…
فلسطینیوں کی اجتماعی بے دخلی—
“نکبہ” کی تاریخ—
اسرائیلی نصاب میں یا تو کمزور الفاظ میں
یا سرے سے شامل نہیں۔

اس کی جگہ جو بیانیہ ملتا ہے وہ یہ ہے:

  • “عربوں نے جنگ چھیڑی”

  • “یہودی ریاست کی حفاظت ضروری تھی”

  • “علاقوں کا خالی ہونا تاریخی ناگزیر عمل تھا”

یعنی ظلم کا بیان…
“ضروری واقعہ” بن کر بچوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے۔

یہی وہ باریک لیکن طاقتور نفسیاتی عمل ہے
جو نئے ذہنوں میں واقعے کی تعبیر بدل دیتا ہے۔

5. اسرائیل کا مؤقف: “نصاب دشمنی نہیں، سکیورٹی سکھاتا ہے”

بیانیے کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔

اسرائیل کی وزارتِ تعلیم اور بعض محققین کہتے ہیں کہ:

  • نصاب کا فوکس سکیورٹی، تاریخ اور یہودی شناخت پر ہے۔

  • فلسطینیوں کی “منفی تصویر” دکھانے کا مقصد نہیں۔

  • کئی کتابیں 2016 کے بعد اپ ڈیٹ ہو چکی ہیں۔

البتہ آزاد رپورٹس کا اصرار ہے کہ
تبدیلی آئی ضرور ہے…
مگر اس کا بنیادی زاویہ وہی ہے
ریاستی بیانیہ مقدم،
علاقائی شناخت ثانوی۔

6. ایک نسل کی تربیت—اور تنازعہ کا مستقبل

سوال یہ ہے کہ:
اس نصاب کا اثر کیا ہے؟

  • وہ اسرائیلی بچے جو فلسطینیوں کو
    ڈاکٹر، طالب علم، ہنرمند یا عام انسان کی حیثیت سے نہیں دیکھ پاتے…
    وہ مستقبل میں امن کو کیسے اپنائیں گے؟

  • جب وہ انہیں صرف خبروں کے “حملہ آور”،
    یا کتابوں کے “روڑہ اٹکانے والے لوگ” کے طور پر جانتے ہیں،
    تو ان کے ذہن میں دشمنی ایک مستقل زاویہ بن جاتی ہے۔

دوسری طرف فلسطینی بچے
قبضے کی دیواروں اور چیک پوسٹوں کے بیچ پلتے ہیں۔
وہ بھی “دوسرے” کو ایک مخصوص نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔

یوں دونوں طرف ایک ایسا دائرہ بنتا ہے
جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے…
اور کبھی ٹوٹتا نہیں۔

7. کیا کوئی راستہ ہے؟

ہاں—چنگاری کہیں نہ کہیں موجود ہے۔

اسرائیل کے اندر ہی کئی اساتذہ،
امن تنظیمیں اور سول سوسائٹی گروپس
دونوں قوموں کی کہانیاں شامل کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

کچھ کتابوں کے نئے ایڈیشن
زیادہ معتدل انداز اختیار کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ تبدیلی کم ہے—
مگر یہ آغاز ہے۔

تعلیم میں چھوٹا قدم بھی
سیاست سے بڑا قدم ہوتا ہے۔

کتاب کے صفحے پر لڑی جانے والی جنگ

اس تنازعے کی سب سے تاریک حقیقت شاید یہ ہے کہ
یہ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔

یہ جنگ…
کاغذ کے ایک صفحے سے شروع ہوتی ہے۔
ایک نقشے کی لکیروں سے۔
ایک تصویر کے زاویے سے۔
ایک سرخ یا نیلی لائن سے،
جسے ایک بچے کے ذہن میں “حقیقت” سمجھ کر بٹھا دیا جاتا ہے۔

اور جب ذہن میں دشمن پیدا ہو جائے…
تو زمین پر دشمنی خود بخود جنم لیتی ہے۔

مگر ایک نصاب جو نفرت بنا سکتا ہے…
وہی نصاب انسانیت بھی پیدا کر سکتا ہے—
اگر اس میں
صوتیں شامل ہوں…
نقشے درست ہوں…
اور کہانیاں پوری بیان کی جائیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ
آج اسرائیلی اسکول کیا سکھا رہے ہیں—
اصل سوال یہ ہے کہ
آنے والی نسلوں کو
کیا سکھانا ضروری ہے؟

Related Articles

جواب دیں

Back to top button