
جنرل (ر) باجوہ نے ٹیک اوور کرنے کی دھمکی دی، فیض حمید کو فوج کا سربراہ بنانا چاہتے تھے: خواجہ آصف کا دعویٰ
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 2022 میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں ’کوئی ذاتی طور پر عاصم منیر صاحب کو جانتا نہیں تھا‘ اور ان کی ’حکومت میرٹ کو یقینی بنا رہی تھی۔‘
جمعرات کو جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سنہ 2022 میں فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے عمل کے دوران اس وقت کے آرمی چیف ’جنرل باجوہ نے آٹھ، نو دن مزاحمت کی‘ اور ’دھمکیاں دیں کہ میں ٹیک اوور کرلوں گا، مجھے ایکسٹینشن دے دیں۔‘
خواجہ آصف کے مطابق اس دوران جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ ’کبھی لالچ کبھی دھمکی دیتے رہے۔‘
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے ’پہلے کوشش کی کہ فیض حمید ہی فوج کے سربراہ بن جائیں۔‘
خواجہ آصف کے یہ دعوے ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی میں چار الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
آئی ایس پی آر کا لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ’ملزم کے خلاف چار الزامات پر مقدمہ چلایا گیا جن میں سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی جس نے ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچایا، اپنے اختیارات اور حکومتی وسائل کا غلط استعمال اور شہریوں کو نقصان پہنچانا‘ شامل تھے۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے بی بی سی کچ بتایا کہ انھیں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایات مل چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’فیصلے کی کاپی اور متعلقہ ریکارڈ کے لیے درخواست ملٹری کورٹ میں دائر کریں گے اور 40 دن کے اندر اندر کورٹ آف اپیل میں اپیل فائل کرنا ضروری ہے۔‘



