سیاست

سرکاری ہسپتالوں میں انسانی جانوں سے کھیلنا بند کیا جائے

لاہور کے سرکاری ہسپتال میں آپریشن مقابلہ بازی طبی اخلاقیات کا قتل ہے۔

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں عوام کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ حکومتی نااہلی کی وجہ سے ہسپتالوں میں روز ایک نیا سکینڈل سامنے آرہا ہے، کہیں موبائل کی روشنی میں آپریشن ہو رہے ہیں تو کہیں سکیورٹی گارڈز مریضوں کے خون کے نمونے لے رہے ہیں، جو کہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی اسلامک سنٹر میں تحریک محنت پنجاب کے عہدیداران کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی صدر تحریک محنت خالد بخاری، صوبائی صدر معراج الدین، محمد زاہد، عامر صدیقی، محمد اشتیاق اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ضیاء الدین انصاری نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں ڈاکٹروں کی دو ٹیموں کے درمیان سی سیکشن آپریشنز کے دوران مبینہ "مقابلہ بازی” اور ویڈیو بنانے کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو کھیل کا میدان بنا دیا گیا ہے۔

ڈاکٹرز کا اپنی مہارت دکھانے کے چکر میں مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا انتہائی شرمناک اور غیر پیشہ ورانہ فعل ہے۔

آپریشن تھیٹر میں ویڈیو بنانا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر خاموشی مجرمانہ ہے۔

انہوں نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ لیڈی ولنگڈن واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کر کے ملوث عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ہسپتالوں میں سکیورٹی گارڈز کی جانب سے طبی مداخلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ بجلی کے متبادل نظام جنریٹرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ موبائل کی روشنی میں آپریشن جیسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔

اجلاس کے اختتام پر تحریک محنت کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی مسائل اور صحت کے شعبے میں جاری اس بے حسی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

جواب دیں

Back to top button