
پاکستان اور خطے کے سکیورٹی انتظامات
پاکستان میں چار ملکی وزرائے خارجہ کا حالیہ اجلاس محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کا ایک اہم اشارہ ہے
(شبیر سعیدی)
پاکستان میں چار ملکی وزرائے خارجہ کا حالیہ اجلاس محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کا ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسا مرحلہ جہاں بیرونی طاقتوں کے بجائے مقامی قوتیں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پاکستان عالمِ اسلام میں ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مضبوط فوجی قوت، ایٹمی صلاحیت، کروڑوں کی آبادی اور غیر معمولی جغرافیائی محلِ وقوع—یہ تمام عناصر اسے ایک فطری علاقائی کھلاڑی بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب دنیا بھی پاکستان کی صلاحیت اور وزن کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
دوسری جانب ایران جیسے اہم ملک کو بھی پاکستان کے ایک بڑے اور مثبت کردار پر کوئی بنیادی اعتراض نہیں، کیونکہ ایک متوازن اور مستحکم پاکستان پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی نظام کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ امریکہ کی طویل فوجی اور سیاسی موجودگی اب اسی شدت کے ساتھ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ اگر امریکہ اس خطے سے نکلتا ہے—جس کے آثار بتدریج نمایاں ہو رہے ہیں—تو سکیورٹی کے انتظامات میں ایک واضح “پاور ویکیوم” پیدا ہونا ناگزیر ہوگا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے خلا زیادہ دیر خالی نہیں رہتے۔
امریکہ کی موجودگی سے خطے کی بڑی طاقتیں نالاں رہی ہیں، جبکہ اسرائیل اس کا واحد مستفید فریق دکھائی دیتا ہے۔ وہ عرب ممالک جنہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کیے، وہاں کی عوام اس موجودگی کو اکثر ناپسند کرتی ہے اور اسے داخلی سیاسی جبر کے تسلسل سے جوڑتی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال نہیں کہ امریکہ کب جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد کا نظام کیسا ہوگا۔
یہاں اصل سوال یہی ہے: پیدا ہونے والے خلا کو کون اور کیسے پُر کرے گا؟
اگر خطے کا سکیورٹی نظام واقعی تبدیل ہونا ہے، تو زیادہ منطقی اور پائیدار راستہ یہی ہے کہ اس کی ذمہ داری انہی ممالک کے پاس ہو جو اس خطے کا حصہ ہیں۔ مقامی قوتیں زمینی حقائق، ثقافتی حساسیتوں اور سیاسی توازن کو بہتر سمجھتی ہیں، اس لیے ان کے فیصلے زیادہ حقیقت پسندانہ اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
ایسے میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ کردار محض طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ حکمت، توازن اور بصیرت سے ادا کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان خود کو ایک غالب قوت کے طور پر مسلط کرنے کے بجائے ایک “پل” (bridge) کے طور پر پیش کرے—جو مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان اعتماد اور رابطہ پیدا کرے—تو اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
حالیہ علاقائی کشیدگی، بالخصوص ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحانہ اقدامات، پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے وہ بڑی اسٹریٹجک پرواز کر سکتا ہے۔ مگر یہ موقع خود بخود کامیابی میں تبدیل نہیں ہوگا۔ یہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت اور حکمت عملی پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتی ہے۔
ان نازک حالات میں پاکستان کے اندرونی سیاسی استحکام کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اپوزیشن پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وقتی سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قومی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دے۔ یہی وقت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک وسیع تر قومی حکمت عملی پر متفق ہوں۔
آنے والا وقت فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ خطہ واقعی بیرونی انحصار سے نکل کر خودمختار سکیورٹی ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن ایک حقیقت واضح ہے: اگر مقامی قوتیں سنجیدگی، اتحاد اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں تو ایک نیا، زیادہ متوازن اور پائیدار علاقائی نظام تشکیل پا سکتا ہے—اور اس نظام میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
