
ایران اور حزب اللہ کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملے اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جس کے بعد اسرائیل نے یوکرین سے مدد طلب کر لی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی ساختہ چھوٹے ڈرونز کو روکنے کے لیے دفاعی نظام پر بھاری اخراجات آ رہے ہیں اور بعض اوقات ایک ہی ڈرون کو تباہ کرنے میں لاکھوں ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں۔
انسٹیٹیوٹ آف نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران تقریباً 550 ڈرونز اسرائیل کی جانب بھیج چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ڈرونز میزائلوں کے مقابلے میں کم تباہ کن ہوتے ہیں، لیکن ان کی کم بلندی پر پرواز اور غیر متوقع راستوں کے باعث انہیں روکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب، حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر مسلسل ڈرون حملے جاری ہیں۔ لبنان سے کیے گئے ان حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے، جن سے خاصا نقصان ہوا ہے۔ چونکہ یہ حملے قریبی فاصلے سے کیے جاتے ہیں، اس لیے دفاعی ردعمل کے لیے وقت نہایت محدود ہوتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ولودیمیر زیلینسکی سے رابطہ کیا، جس میں ایرانی ڈرونز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور تعاون پر بات چیت کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق، یوکرین نے اسرائیل کو ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاعی نظام اور ہتھیار فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین پہلے ہی ڈرون جنگ کے میدان میں تجربہ رکھتا ہے۔
ایرانی "شاہد” طرز کے کم لاگت اور خودکش ڈرونز کو روکنا عالمی سطح پر ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں یوکرین نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ڈرونز کے خلاف خصوصی یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں تاکہ اس خطرے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔







