
ایران کی تیل برآمدات میں اضافہ، روزانہ آمدن 139 ملین ڈالر تک پہنچ گئی
جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود ایران کی برآمدات برقرار، عالمی قیمتوں میں اضافے سے دوہرا فائدہ
ایران نے جاری جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود اپنی تیل برآمدات کو مستحکم رکھتے ہوئے یومیہ تقریباً 139 ملین ڈالر تک آمدن حاصل کر لی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نہ صرف تیل کی فروخت سے فائدہ اٹھا رہا ہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں سے لاکھوں ڈالر تک ٹرانزٹ فیس بھی وصول کر رہا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے ایران کو اضافی مالی فائدہ ملا۔ ایرانی خام تیل، خصوصاً "ایرانی لائٹ”، بڑی حد تک چین کو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
تخمینوں کے مطابق ایران کی یومیہ تیل برآمدات تقریباً 1.6 ملین بیرل کی سطح پر برقرار ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔ ایرانی آئل ٹینکرز خارگ جزیرے سے روانہ ہو کر خلیج فارس کے راستے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اس سرگرمی میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔
یہ صورتحال خطے کے دیگر ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، عراق اور سعودی عرب کے برعکس ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
اگرچہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی دباؤ برقرار ہے، تاہم تہران اپنی برآمدات جاری رکھ کر مالی استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
مزید برآں، واشنگٹن نے تیل کی عالمی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر سے متعلق کچھ پابندیوں میں عارضی نرمی کی، جس سے ایران کو اضافی سہولت ملی۔
ماہرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں بھی لچک دیکھی جا رہی ہے، جہاں ایک جانب ایران پر دباؤ ہے تو دوسری جانب تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ایران کی یومیہ آمدن تقریباً 115 ملین ڈالر سے بڑھ کر 139 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب، حالیہ رپورٹس میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے بعد ایران نے خطے میں جوابی کارروائیاں کیں۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایران کو خبردار کیا، تاہم بعد میں مذاکرات کے امکان کا بھی عندیہ دیا۔ ایرانی حکام نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے امریکی جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔







