ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

ایران کا امریکا سے مذاکرات کی تردید، فیک نیوز کا الزام، سخت ردعمل کی دھمکی

باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران مکمل سزا تک پیچھے نہیں ہٹے گا، توانائی مارکیٹ میں عدم استحکام کا خدشہ

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "فیک نیوز” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات کا مقصد عالمی اقتصادی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل خود ایک پیچیدہ صورتحال میں گھرے ہوئے ہیں۔

اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی عوام ان ممالک کے خلاف سخت اور واضح کارروائی چاہتے ہیں جنہیں وہ جارح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی قیادت اور عوام اس ہدف کے حصول تک متحد رہیں گے۔

دوسری جانب ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے مؤثر ردعمل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق امریکا اور مغربی ممالک کو معاشی دباؤ اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کے مؤقف میں نرمی آئی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف ثالثی چینلز کے ذریعے ایران کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، تاہم تہران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ اس وقت تک دفاعی اقدامات جاری رکھے گا جب تک مطلوبہ سطح کا دفاعی توازن (ڈیٹرینس) حاصل نہیں کر لیا جاتا۔

ایرانی ذرائع نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر واپس نہیں آئے گی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام بھی فوری طور پر ممکن نہیں۔

مزید برآں، ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پانچ روزہ الٹی میٹم کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے اسے ایرانی عوام کے خلاف دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ ملک اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید وسعت دے گا۔

جواب دیں

Back to top button