سیاست

امریکا کو اندازہ ہوتا کہ جنگ 2 ہفتے بھی چلے گی تو وہ حملہ نہیں کرتا

پی پی پی رہنما نے کہا کہ جنگ ایران اور امریکا کی معاشی لڑائی میں بدل گئی، پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات پر تشویش

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما Syed Khursheed Shah نے کہا ہے کہ اگر امریکا کو اندازہ ہوتا کہ ایران کے ساتھ جنگ دو ہفتے سے زیادہ چل سکتی ہے تو وہ حملہ کرنے سے گریز کرتا۔

سکھر میں عید ملن پارٹی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے بتایا کہ موجودہ تنازعہ ایران اور امریکا کے درمیان معاشی جنگ میں بدل گیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر معاشی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دنیا کے بیشتر ممالک امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے، لیکن اب وہ پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔ پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ جہاں مسلم ممالک میں امریکی اڈے موجود ہیں وہاں بمباری ہو رہی ہے، اور جنگ کے طویل ہونے سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ضروری ہے۔

خورشید شاہ نے واضح کیا کہ جن ممالک کے اڈے امریکا استعمال نہیں کر رہا وہاں ایران پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو نقصان ہوا ہے، لیکن وہ ابھی بھی بھرپور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔

پی پی پی رہنما نے پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک کو جنگ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ وہ اسرائیل اور بھارت کے اثر میں آ رہا ہے، اور مہمان نوازی کے بدلے افسوسناک رویہ اختیار کر رہا ہے، جو کسی دوسرے مسلم ملک کے لیے قابل قبول نہیں۔

جواب دیں

Back to top button