
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف، غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی اجازت
عالمی بحری تنظیم میں ایرانی نمائندے کی وضاحت، جی سیون ممالک کا حملے روکنے کا مطالبہ
International Maritime Organization میں Iran کے نمائندے نے کہا ہے کہ دشمن کے سوا دیگر ممالک کے جہاز Strait of Hormuz سے گزر سکتے ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی نمائندے نے بتایا کہ ایران بحری سلامتی اور جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور بحری تنظیموں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے موجودہ کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار United States اور Israel کے اقدامات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی عوامل کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔
ایرانی نمائندے نے مزید کہا کہ ایران دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے تاکہ بحری راستوں کی حفاظت اور تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب G7 ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور غیرمشروط طور پر تمام حملے بند کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔
جی سیون کے مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات عالمی امن اور توانائی کی سپلائی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
بیان میں United Kingdom، France، Germany، Italy، Netherlands، Canada اور Japan نے توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے اور اہم بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔







