کالم

مظلوموں کا مسیحا

،،ڈاکٹر محمد ایاز،،
سید منور عباس بخاری سابق ڈپٹی کمشنرکوٹ ادو ریاست پاکستان کا وہ خوب صورت چہرہ ہیں جس نے عوام کو یہ حقیقی احساس دیا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جس نے خدمت کے ذریعہ سے ضلع کوٹ ادو کی عوام کے دلوں میں گھر کر لیا ہے اور بچے بوڑھے عورتیں جوان سب دعائیں دیتے نظر آتے ہیں ،اور وہ غریب ،مزدور ،کسان اور تمام شعبہ ہاۓ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں محبت کے ذریعہ سے اپنا مقام بناتے ہے اور ان کے دروازے چوبیس گھنٹے سائلین کےلیے کھلے رہتے ہیں ، جس نے جرات وخدمت کی مثالیں قائم کی ہیں ،جنہوں نے اپنے دورمیں کوٹ ادو کی قسمت بدلنے کے لیے دن رات ایک کیے اور تھوڑے عرصہ میں وہ کر دکھایا جو کوئی نہ کر سکاجس کے چرچے ان کے جانے کے بعد بھی زبان زد عام ہیں ،اور کچھ لوگوں کو ان کے تبادلہ پر دھاڑیں مار کر روتے دیکھا وجہ کیا ہے اتنی محبت کیوں ہے اتنی دعائیں اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو ان کے کام کردار کی گواہیی ہے جو انہوں نے کوٹ ادو کی سر زمین میں بسنے والے لوگوں کو پیار دیایہ اس کاصلہ ہےورنہ آفیسر تو آتے جاتے رہتے ہیں کسی کو معلوم بھی نہین ہوتا کون آیا او کون گیا بخاری صاحب نےپورے ضلع کے لوگوں کو اپنے خاندان کاحصہ سمجھتے ہوۓ ان کے دکھ درد سانجھے کیے اور ان کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا ٹھنڈے کمروں سے نکل کر ہسپتالوں میں تھانوں میں گلیوں میں بازاروں میں جاکر ان کے دکھڑے سنے اور موقع پر مداوا کیا ،ضلع کوٹ ادو کےلیے جو انہوں نے بڑے بڑے کام کیے ان کی ایک لمبی فہرست ہے، سر دست کچھ واقعات قارئین کی نظر کرتاہوں آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ انہوں نے معاشرے کے پسے ہوۓ طبقے کو کس طرح اوپر اٹھایا اور ان کو ان کی دہلیز پر حق دلوایا، جہاں انہوں نے ضلع بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری جگہ پر قبضہ کرنے والوں سے زمین واگذار کروائی وہیں پر عوام کی جگہوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف ریاست کی رٹ قائم کرتے ہوۓ قبضے واپسی دلواۓ اس حوالہ سے عوامی خدمت کے چند واقعات تحریر کرتا ہوں تاکہ آپ اس سے بخاری صاحب کی کارکردگی کو سمجھ سکیں، ایک عورت درخواست گزارتی ہیں کہ میرے بھائی میرا حق نہیں دے رہے ہیں بخاری صاحب نے ان کے بھائیوں کو اپنے دفترمیں بلایا اور بہن کا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا تو بھائی کہنے لگے کہ ہمارا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے جب فیصلہ ہوگا تو حصہ دے دیں گے اور مختلف بہانے کرنے لگے اور کہتے ہیں کہ شہری زمین ہے اس میں سے دینا مشکل ہے،لیکن بخاری صاحب ان کوواضح میسج دیتے ہیں کہ یہ حق آپ کو ہر صورت دینا ہے اور جلدی دینا ہے وہ مظلوم عورت جو غربت کی ماری بچوں کاپیٹ پالنے کےلیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی اس کو بھائیوں سے ساڑھے تین سو کنال زمین لے کر دی آج وہ اپنی زمین کی مالک ہے اور عزت سے بچوں کا پیت پال رہی ہے اور بخاری صاحب کو دعاؤں سے نواز رہی ہے ایک بزرگ شہری جوکہ انتہائی ضعیف اور لاٹھی کے سہارے دفتر میں داخل ہوااور آکر کہتا ہے کہ میرے بیٹوں نے مجھے میرے گھر سے نکال دیاہے اور میں بے یارومددگار ہوں اس کے بیٹے کوبلاکر اسے سمجھایاکہ والدین کی عزت کرو اور انہیں اپنے گھر میں جگہ دو اور بیٹے نے والد کی زمین اپنے نام ہبہ کروالی تھی اسکو کینسل کرکے دوبارہ والد کے نام کی وہ بوڑھا بزرگ زارو قطار روتے ہوۓ ہاتھ اٹھا کر دعائیں دے رہاتھا اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جس میں مظلوموں کی داد رسی کی گئی ہے،کتاب دوستی کے حوالہ سے بھی بڑا کام کیا ہے جس میں پاک ٹی ہاؤس کا قیام ہے جس میں مردوں اور عورتوں کےلیے علیحدہ انتظام کیاگیاہے ،جس کی وجہ سے نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی، اور اسی طرح سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے اشتراک سے مفت دستر خوان لگواۓ تاکہ کوئی کوئی بھوکا نہ سوۓ،اسی طرح نوجوانوں میں صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دینےکے لیے کھیلوں کے مقابلے کرواۓ اور انعامات سے نوازا،عوام کوسستی اور معیاری اشیاءایک ہی جگہ سے میسر آئیں اس کےلیے سستے بازار لگواۓ اور عوام کی دلچسپی کوبڑھانے کےلیے انعامی اسکیموں کے ذریعہ سے جہاں اور بے شمار انعامات دے گئے وہیں موٹر سائیکل،اور عمرہ کے ٹکٹ بھی دے گئے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا ، سید منور عباس بخاری ریاست کاوہ خوب صورت چہرہ ہیں جنہوں نے ہرطبقہ فکر کے ساتھ مل کر اپنے حلقہ اختیار میں بہتری لانے کےلیے شب وروز ایک کیا ،آپ کبھی تو مساجد کے منبر ومحراب پراصلاح معاشرہ پر بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں اوران کابیان سننے کے لیے جوق در جوق لوگ آتے ہیں ،اور کبھی مدارس ،اسکولوں میں نوجوانوں کے دلوں میں وطن کی مٹی سے محبت اورمستقبل کو روشن کرنے کے گرسکھاتے دکھائی دیتے ہیں،اور کبھی ہسپتالوں ،میں جاکردکھی انسانوں کاغم ہلکا کرتے نظر آتے ہیں، ضلع کوٹ ادو کےتمام انتظامی اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کےلیے ہمیشہ کوشاں رہے ،اور جو ایک بات بخاری صاحب کو منفرد مقام دیتی ہے وہ مزہبی حلقوں میں پذیرائی ،پورے ضلع کے تمام مسالک ومکاتب میں ان کابہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے ،بلکہ منبر ومحراب سے ان کے بیانات کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کو عوامی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا،یقینا سید منور عباس بخاری صاحب کی عوام دوستی اور خدمت خلق کاجذبہ قابل صدتحسین اور قابل تقلید عمل ہے جس کو جاری وساری رہنا چاہیے،میں سمجھتا ہوں کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر،اور اسسٹنٹ کمشنر عوامی مسائل علاقائی سطح پر حل کرنا شروع کردیں تو عدالتوں پر بھی بوجھ بہت حد تک کم ہو جاۓ گا اور سب سے زیادہ فائدہ غریب عوام کو ہوگا

جواب دیں

Back to top button