تحقیقاتی رپورٹسٹائٹل

حالیہ کشیدگی کے بعد ایران مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا، امریکی تجزیہ کار

پروفیسر رابرٹ پاپ کے مطابق ایران نے نہ صرف عسکری میدان میں برتری دکھائی بلکہ عالمی تیل منڈی کو بھی متاثر کیا

امریکی تجزیہ کار اور یونیورسٹی آف شکاگو میں سیاسیات کے پروفیسر رابرٹ پاپ نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع کے باوجود ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے۔

ان کے مطابق ایران نے نہ صرف عسکری سطح پر اپنی مزاحمتی صلاحیت کو برقرار رکھا بلکہ عالمی توانائی کے شعبے میں بھی اپنا اثر بڑھایا ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات نمایاں ہیں۔

رابرٹ پاپ کا کہنا تھا کہ ایران کی حکمت عملی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایرانی اقدامات کے باعث اس اہم سمندری راستے پر ٹریفک متاثر ہوئی، جس کا براہِ راست اثر عالمی تیل سپلائی پر پڑا۔

ان کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کو بڑھایا بلکہ امریکا کے اتحادی اتحاد کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

مزید برآں، رابرٹ پاپ نے کہا کہ محض 17 دنوں کے مختصر عرصے میں ایران نے غیر معمولی اسٹریٹجک فوائد حاصل کیے ہیں، جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button