
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کر دیں
غیر ملکی ثالثی کی پیشکشیں بھی رد، ایران کا مؤقف: امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت حکمت عملی اپنائی جائے گی
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ یہ تجاویز ایک اہم خارجہ پالیسی اجلاس کے دوران زیرِ غور آئیں، تاہم سپریم لیڈر نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ تجاویز دو مختلف ثالثی کرنے والے ممالک کی جانب سے ایران کو بھیجی گئی تھیں، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ لیکن ایرانی قیادت نے ان کوششوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔
سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امن کی بات چیت مناسب نہیں۔ ان کے بقول، ایران کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، جس کے بغیر کسی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے خارجہ پالیسی اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا اب یہ وقت امن کا نہیں، سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو شکست دینا ہوگی۔







