ٹائٹلکاروبار

ایران کی چینی کرنسی میں تجارت کرنے والے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت

رپورٹس کے مطابق ایران محدود آئل ٹینکروں کو اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، جبکہ یورپی ممالک توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ Iran آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض آئل ٹینکروں کو اجازت دینے کے لیے نئی شرائط پر غور کر رہا ہے، جن میں تجارت کو چینی کرنسی یوآن میں انجام دینا شامل ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی زیادہ تر تجارت امریکی ڈالر میں کی جاتی ہے، تاہم ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران محدود تعداد میں آئل ٹینکروں کو اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz سے گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس اجازت کے لیے ممکنہ شرط یہ ہو سکتی ہے کہ تیل کی تجارت چینی کرنسی یوآن میں کی جائے۔ اس اقدام کو عالمی توانائی مارکیٹ اور کرنسی کے نظام پر اثر انداز ہونے والے ممکنہ فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی ممالک بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق France اور Italy نے اپنے تجارتی اور بحری جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے ایران سے سفارتی رابطے کیے ہیں۔

برطانوی اخبار Financial Times کے مطابق یورپی ممالک خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائے بغیر توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

جواب دیں

Back to top button