
اسپین کا تل ابیب میں سفارتی سطح کم کرنے کا فیصلہ، اسرائیل میں سفیر کو واپس بلا لیا گیا
ہسپانوی کابینہ کی منظوری کے بعد اسرائیل میں سفارتی عملہ کم کر دیا گیا، تعلقات کو ناظم الامور کی سطح تک محدود رکھنے کا فیصلہ۔
اسپین کی حکومت نے اسرائیل میں اپنی سفارتی نمائندگی کم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تل ابیب میں تعینات اپنے سفیر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
میڈرڈ سے شائع ہونے والی ایک ہسپانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے تل ابیب میں موجود سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام ہسپانوی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو عارضی طور پر ناظم الامور کی سطح تک محدود رکھنے کی حمایت کی، جس کے بعد سفارتی عملے میں کمی کا فیصلہ نافذ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1986 میں ہوا تھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی تنازعات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔
اسپین کی حکومت نے غزہ میں جاری جنگ اور ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کی بھی کھل کر مخالفت کی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔







