ٹائٹلعالمی امور

اسرائیلی حملے کی ویڈیو پر سوالات، کیا واقعی ایرانی ہیلی کاپٹر تباہ ہوا یا صرف فرضی ہدف؟

سوشل میڈیا پر وائرل انفراریڈ ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی، صارفین کا دعویٰ ہے کہ نشانہ بننے والی شے ممکنہ طور پر زمین پر بنائی گئی تصویر ہو سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اسرائیلی فوج نے واقعی ایرانی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا یا کسی فرضی ہدف کو تباہ کیا۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) نے 4 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک انفراریڈ ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو میں ایران کے اندر دو مختلف مقامات پر دھماکے دکھائے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ اس کارروائی میں ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر سمیت دیگر فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔

تاہم ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے پر سوالات اٹھا دیے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں تباہ ہونے والی شے دراصل کوئی حقیقی ہیلی کاپٹر نہیں بلکہ زمین پر بنائی گئی اس کی تصویر یا خاکہ ہو سکتی ہے۔

صارفین کے مطابق دھماکے کے بعد بھی ویڈیو میں ہیلی کاپٹر کے پروں کی ساخت تقریباً ویسی ہی دکھائی دیتی ہے جیسی دھماکے سے پہلے تھی، جس کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ یہ ممکنہ طور پر ایک پینٹنگ یا فرضی ہدف تھا۔

اس بحث کو مزید اس وقت تقویت ملی جب اسرائیلی فوج نے ویڈیو کے حوالے سے جاری سوالات پر فوری طور پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔

ایران کی ممکنہ حکمت عملی

کچھ مقامی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے دشمن کو دھوکا دینے کے لیے زمین پر ہیلی کاپٹروں کی فرضی تصاویر بنائی تھیں تاکہ مخالف فریق کے مہنگے میزائل ضائع ہو جائیں۔

اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی میزائل، جن کی قیمت اوسطاً تقریباً 30 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، ایک سادہ اور کم لاگت حربے کے ذریعے ضائع ہو گئے۔

دوسری جانب بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے دھوئیں اور حرارتی اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ممکن ہے واقعی کوئی فوجی ہدف تباہ ہوا ہو۔

فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہدف حقیقی ہیلی کاپٹر تھا یا صرف ایک فرضی نشانہ، تاہم اس واقعے نے جدید جنگ میں فریب، نفسیاتی حربوں اور معلوماتی جنگ کے کردار پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button