ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

بن گوریان ایئرپورٹ خرمشہر-4 بیلسٹک میزائل کا نشانہ

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تل ابیب کی جانب داغے گئے میزائل ایک ٹن وزنی وارہیڈ سے لیس تھے، اسرائیل نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کے بن گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جدید خرمشہر-4 بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائی آپریشن "سچا وعدہ” کی 19ویں لہر کا حصہ تھی، جس کے دوران ایک ٹن وزنی وارہیڈ سے لیس میزائل طلوعِ آفتاب کے وقت تل ابیب کی جانب داغے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف بن گوریان ایئرپورٹ اور اس کے قریب واقع اسرائیلی فضائیہ کا 27واں ایئر بیس تھا۔

ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے میں امریکی فوج کے 20 مختلف اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود فوجی تنصیبات شامل ہیں۔ ایران کے مطابق خرمشہر-4 میزائل ملک میں تیار کیا گیا ایسا بیلسٹک میزائل ہے جو سب سے بڑے وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خرمشہر-4 بیلسٹک میزائل تقریباً 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں 1500 کلوگرام تک وزنی وارہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا حملوں سے متعلق مختلف تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق تل ابیب اور اس کے اطراف کم از کم تین مقامات پر آگ لگنے اور نقصان کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

حملوں کی نگرانی کرنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ہونے والے بعض دھماکوں میں ممکنہ طور پر خرمشہر-4 میزائل استعمال کیا گیا، کیونکہ اس میں کلسٹر وارہیڈ نصب کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو ایک بڑے علاقے میں متعدد چھوٹے دھماکا خیز مواد پھیلا دیتا ہے۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں نقصان کے پھیلاؤ کو بھی اسی نوعیت کے ہتھیار سے جوڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے دوران داغے گئے زیادہ تر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق صبح کے وقت داغا گیا ایک میزائل وسطی اسرائیل کے ایک قصبے کے کھلے علاقے میں گرا، تاہم کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

جواب دیں

Back to top button