ٹائٹلٹیکنالوجی

ایران کے سستے شاہد ڈرونز جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے نیا چیلنج بن گئے

رپورٹ کے مطابق ایران نے ہزاروں کم قیمت خودکش ڈرونز استعمال کیے، جنہیں مار گرانے کے لیے مہنگے میزائل درکار ہوتے ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایک نیا اسٹریٹیجک دفاعی چیلنج درپیش ہے کیونکہ ایران کم قیمت مگر مؤثر حملہ آور ڈرونز کے ذریعے جدید اور مہنگے فضائی دفاعی نظام کو چیلنج کر رہا ہے۔

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اب تک 2000 سے زائد شاہد خودکش ڈرونز داغے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سخت دفاعی اقدامات کے باوجود بعض ڈرونز اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

شاہد ڈرون دراصل تکون نما لوئٹرنگ میونیشن ہے جس کی لمبائی تقریباً 11 فٹ ہوتی ہے اور اس میں دھماکا خیز مواد نصب کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرون ٹرک کے عقب سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی بروقت شناخت اور تباہی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ماڈلز تقریباً 1200 میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسے مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والا پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کا PAC-3 انٹرسیپٹر میزائل ایک فائر میں 30 لاکھ ڈالر سے زائد لاگت رکھتا ہے، جبکہ اس کی پیداوار بھی محدود ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں لاک ہیڈ مارٹن نے صرف 620 انٹرسیپٹر میزائل فراہم کیے، جو بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے مقابلے میں کم سمجھے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ امریکا اس خطرے سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، جن میں نسبتاً کم قیمت ری تھیون کا کوایوٹ انٹرسیپٹر اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز بھی شامل ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سستے ڈرونز کے مقابلے میں مسلسل مہنگے میزائل استعمال کیے جاتے رہے تو طویل جنگ کی صورت میں یہ حکمت عملی معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے پینٹاگون نے کم لاگت امریکی ڈرونز کی تیاری میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ ان میں LUCAS نامی ایک نیا ڈرون سسٹم بھی شامل ہے جو شاہد ڈرون کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر تیار کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button