ٹائٹلعالمی امور

وائٹ ہاؤس کی ویڈیو پر تنازع: کال آف ڈیوٹی کے مناظر ایران پر حملوں کی حقیقی فوٹیج کے ساتھ شیئر

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں ویڈیو گیم اور اصل حملوں کی تصاویر ملانے پر صارفین اور سیاسی حلقوں کی شدید تنقید، ویڈیو کو کروڑوں بار دیکھا جا چکا ہے۔

امریکی حکومت کو اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے جب وائٹ ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ویڈیو گیم کال آف ڈیوٹی کے مناظر کو ایران میں امریکی میزائل حملوں کی حقیقی ویڈیوز کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔

تقریباً ایک منٹ پر مشتمل اس ویڈیو کو “Courtesy of the Red, White & Blue” کے عنوان کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا گیا۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور اسے اب تک تین کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ملا جلا مگر زیادہ تر تنقیدی ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ جیسے سنگین معاملے کو ویڈیو گیم کے انداز میں پیش کرنا غیر سنجیدہ اور نامناسب طرزِ عمل ہے۔

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت جنگ کو ایسے پیش کر رہی ہے جیسے یہ کوئی ویڈیو گیم ہو، جبکہ حقیقت میں اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ اسی صارف نے مزید کہا کہ اس ’ویڈیو گیم‘ میں وہ ایرانی بچے اور شہری نظر نہیں آتے جو حملوں میں مارے گئے، اور نہ ہی وہ امریکی فوجی دکھائی دیتے ہیں جو جنگ میں جان گنوا بیٹھے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں کم از کم 1230 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان ہلاکتوں میں 175 طالبات اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہے، جو ہفتے کے روز میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔

جواب دیں

Back to top button