
قبرص میں برطانوی ایئر بیس ایکروٹری پر ڈرون حملہ: برطانیہ نے ایران کے ملوث ہونے کی تردید کر دی
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق شاہد طرز کے ڈرون سے حملہ ہوا، تاہم یہ ایران سے لانچ نہیں کیا گیا
قبرص میں برطانوی ایئر بیس ایکروٹری پر ڈرون حملہ، ایران ملوث نہیں: برطانیہ
قبرص میں واقع برطانیہ کے اہم فوجی اڈے ایکروٹری پر ہونے والے ڈرون حملے سے متعلق برطانوی حکومت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایران کا براہِ راست ہاتھ نہیں تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 2 مارچ کی رات ایکروٹری ایئر بیس کو نشانہ بنانے والا ڈرون ایرانی ساخت سے ملتا جلتا تھا، تاہم یہ ایران کی جانب سے لانچ نہیں کیا گیا۔
جدید دفاعی نظام کو چکما دینے والا ڈرون
رپورٹس کے مطابق 2 اور 3 مارچ کی درمیانی شب ایک بغیر پائلٹ ڈرون برطانوی فوجی اڈے کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس دوران اس نے بیس کے جدید ریڈار سسٹمز کو بھی چکما دیا۔
حملے کے بعد فوری ردعمل کے طور پر برطانیہ نے لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے جبکہ جدید ترین جنگی طیارے ایف۔35 بھی الرٹ کر دیے گئے۔
محدود نقصان کی اطلاعات
ذرائع کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ایئر بیس کے رن وے کے قریب موجود ایک ایئر کرافٹ ہینگر کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ابتدائی دعوے اور نئی وضاحت
واقعے کے فوری بعد قبرص کی حکومت نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ڈرون حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بیس کو محدود نقصان پہنچا۔
تاہم بعد ازاں برطانوی وزارتِ دفاع نے 4 مارچ کی رات سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ ایکروٹری ایئر بیس پر حملہ کرنے والا شاہد طرز کا ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا۔
حملے کے مقام سے متعلق قیاس آرائیاں
برطانیہ کی اس وضاحت کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ یہ ڈرون ممکنہ طور پر لبنان کے علاقے سے لانچ کیا گیا ہو سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ روم کے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔







